پاکستانی سینما اور ٹیلی ویژن کا منظرنامہ طویل عرصے سے اسی معاشرے کی گہری ساختی ناہمواریوں کی عکاسی کرتا آیا ہے جس سے یہ جنم لیتا ہے۔ کئی دہائیوں تک مرکزی دھارے کی لالی وڈ فلموں اور پرائم ٹائم ٹیلی ویژن ڈراموں میں خوشحالی اور امارت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی، جہاں دولت کو محض ایک خواہش نہیں بلکہ زندگی کے بیشتر مسائل کا حتمی حل بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔
بڑے بجٹ کی فلموں اور مقبول ڈراموں میں اکثر عالی شان بنگلوں، مہنگے ملبوسات اور پرتعیش طرزِ زندگی کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ نچلے متوسط اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے کرداروں کو عموماً محدود اور سطحی کرداروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ وفادار ڈرائیور، مزاحیہ گھریلو ملازم، مجبور غریب یا قابلِ رحم بھکاری جیسے کردار اکثر صرف اس لیے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مرکزی کرداروں کی کہانی کو آگے بڑھا سکیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کرداروں میں اکثر واضح نسلی اور لسانی دقیانوسی تصورات شامل ہوتے ہیں۔ مخصوص علاقائی لہجوں، بولیوں اور ثقافتی حوالوں کو اس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ سماجی درجہ بندی کو مزید مضبوط کرتے اور پسماندہ نسلی و لسانی شناختوں کو مزاحیہ کردار یا ماتحت حیثیت تک محدود کر دیتے ہیں۔
طبقاتی عدم توازن کو برقرار رکھنے والے اہم عوامل میں سے ایک کم آمدنی والے طبقے کی سینما تک رسائی کا محدود ہونا بھی ہے۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں موجود سنگل اسکرین سینما گھروں کے زوال اور بڑے شہری مراکز میں مہنگے ملٹی پلیکس کلچر کے فروغ نے نچلے متوسط طبقے کے لیے سینما کو عملاً ایک مشکل تفریح بنا دیا ہے۔
چونکہ ان طبقات کے لیے سینما گھروں تک سستی اور آسان رسائی موجود نہیں، اس لیے فلم ساز تاریخی طور پر زیادہ تر ان شہری ناظرین کی پسند کو مدنظر رکھتے رہے ہیں جو مہنگے ملٹی پلیکسز تک رسائی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً محنت کش اور کم آمدنی والے پس منظر سے تعلق رکھنے والے کہانی کاروں کے لیے پاکستانی فلم انڈسٹری میں داخل ہونا اور مرکزی دھارے کی کہانیوں کو متاثر کرنا انتہائی مشکل رہا ہے۔
ان کے پاس نہ وہ پلیٹ فارم موجود رہے، نہ سرمایہ اور نہ ہی وہ ادارہ جاتی معاونت جس کے ذریعے وہ مرکزی دھارے کی پاکستانی فلم سازی کا حصہ بن سکتے۔
اس کے باوجود ٹیلی ویژن اور آزاد سینما کی کچھ تخلیقات نے وقتاً فوقتاً اس روایتی ڈھانچے کو چیلنج کیا ہے۔ ڈراما سیریل پریزاد اس حوالے سے ایک اہم مثال بن کر سامنے آیا، جس نے ایک محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے مرکزی کردار کی کہانی کو مرکز بنایا۔ یہ کردار غربت، نظام کی طبقاتی ناہمواری، نسلی تعصب، تعلیم کے حصول اور دولت کے حصول کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے گزرتا ہے۔





