سیالکوٹ: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت میں اب توجہ صرف برآمدات بڑھانے پر نہیں بلکہ نئی مصنوعات کو یورپی منڈی تک پہنچانے اور موجودہ مواقع سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر بھی مرکوز ہے۔
یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے بدھ کو سیالکوٹ کی کاروباری برادری سے ملاقات میں یورپی منڈی تک رسائی بڑھانے، جی ایس پی پلس کے تسلسل، کاروباری روابط اور نئی برآمدی مواقع پر گفتگو کی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی یورپی یونین کو اشیا کی برآمدات 2025 میں تقریباً 8.7 ارب یورو تک پہنچ گئیں، جو 2013 کے تقریباً 4.5 ارب یورو کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ 2025 کی برآمدات میں تقریباً 7 ارب یورو کی مصنوعات جی ایس پی پلس ترجیحات کے تحت یورپی منڈی میں داخل ہوئیں۔
پاکستان 2014 سے جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کے تحت پاکستان کی 85 فیصد سے زیادہ برآمدات یورپی یونین میں ڈیوٹی اور کوٹے کے بغیر یا ترجیحی شرائط پر داخل ہو سکتی ہیں۔ اس سہولت کے بدلے مستفید ممالک کو انسانی اور مزدور حقوق، ماحولیات اور بہتر طرز حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔
سیالکوٹ اس تجارت میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ شہر کی صنعتی بنیاد صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں۔ یہاں فٹ بال، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آلات، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر تیار شدہ اشیا تیار کی جاتی ہیں جو عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
یورپی یونین کے سفیر کا دورہ ایسے وقت میں بھی اہم ہے جب یورپی تجارتی ترجیحات کا نیا نظام یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے والا ہے۔ نئے جی ایس پی فریم ورک میں انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات، موسمیاتی ذمہ داریوں اور بہتر طرز حکمرانی سے متعلق شرائط مزید مضبوط کی جائیں گی۔ موجودہ جی ایس پی پلس ممالک کو نئے نظام کے تحت دوبارہ درخواست دینا ہوگی، تاہم اس کے لیے عبوری مدت بھی دی جائے گی۔
سیالکوٹ کی جراحی آلات کی صنعت کے لیے یورپی معیار پہلے ہی ایک عملی مسئلہ ہے۔ سفیر نے پاکستان ایسوسی ایشن آف سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز کے نمائندوں سے ملاقات میں یورپی یونین کے میڈیکل ڈیوائس ریگولیشن اور اس کی تعمیل میں درپیش مسائل پر بھی گفتگو کی۔
یورپی یونین کے مطابق 2025 میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اشیا کی مجموعی تجارت 12.2 ارب یورو رہی۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے یورپ کے لیے برآمدی شعبے میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ اب بھی بہت زیادہ ہے، اس لیے برآمدی تنوع اہم ہے۔





