ریاض: مشرق وسطیٰ کا توانائی بحران اب صرف ایک آبی راستے تک محدود نہیں رہا۔
جب آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی جاری ہے، ایران سے منسلک حوثی فورسز نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو مسلسل دوسرے روز نشانہ بنا کر خطے میں دباؤ کا ایک اور مرکز کھول دیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق بدھ کے روز ابہا، خمیس مشیط اور جازان کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ حملوں میں قومی بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمعرات کو خمیس مشیط میں ایک بار پھر ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا، تاہم بعد میں حکام نے صورتحال کو محفوظ قرار دے دیا۔
ایک روز قبل ہونے والے حملوں کے بارے میں سعودی حکام نے بتایا تھا کہ جنوبی سعودی عرب کے چار شہروں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے اور تیل کی تنصیبات میں آگ لگی۔ حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور قریبی علاقوں میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی اثاثوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے جواب دے گا۔
دوسری جانب حوثی اپنے حملوں کو یمن میں سعودی فوجی کارروائی کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے قائم ہونے والی نسبتاً طویل خاموشی کے ختم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
لیکن اس تنازع کے اثرات سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں۔
سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، جبکہ بحیرہ احمر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔
اب دونوں راستے دباؤ میں ہیں۔
جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔ امریکی ایران کشیدگی کے باعث وہاں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق بدھ کو صرف سات بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو حالیہ 10 روزہ اوسط کا تقریباً نصف تھا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔
ایسے میں حوثیوں کی تازہ کارروائیاں پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی توانائی نظام کے لیے ایک اور خطرہ بن رہی ہیں۔
سعودی عرب کے لیے بھی یہ ایک مشکل فیصلہ ہے۔ سخت جواب مزید حملوں کو روک سکتا ہے، لیکن یمن میں وسیع فوجی کارروائی اس تنازع کو دوبارہ اس سطح تک لے جا سکتی ہے جسے ریاض نے برسوں کی کوشش کے بعد محدود کیا تھا۔
اس صورتحال میں پاکستان بھی سفارتی کوششوں کا حصہ بن گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اسلام آباد نے ایران تک سعودی عرب کا پیغام پہنچایا ہے کہ تہران حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے پر آمادہ کرے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت بھی دہرائی ہے جبکہ اس کی کوشش ہے کہ تنازع مزید پھیلنے سے روکا جائے۔
فی الحال تنازع کا جغرافیہ سفارتی کوششوں سے زیادہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
ایک طرف آبنائے ہرمز دباؤ میں ہے۔
دوسری طرف بحیرہ احمر اور سعودی توانائی کا بنیادی ڈھانچہ خطرے میں ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان شروع ہونے والی جنگ اب ایک وسیع علاقائی سلامتی کے بحران میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں دنیا کی توانائی کی گزرگاہیں بھی میدان جنگ کا حصہ بن رہی ہیں۔
اور جب دنیا کا تیل لے جانے والے راستے نشانے پر آ جائیں تو اس جنگ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے۔





