ویب ڈیسک: ایک کلومیٹر طویل اور دو لین پر مشتمل یہ پل دریائے تومن پر بنایا گیا ہے اور روس کے علاقے خسان کو شمالی کوریا کے شہر راجِن سے ملاتا ہے۔ پل کا افتتاح 7 ستمبر کو ہوا، جس میں روسی وزیر اعظم میخائل مشوستین اور شمالی کوریا کے وزیر اعظم پاک تھائے سونگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
روسی حکومت کے مطابق پل سے روزانہ 300 تک گاڑیاں گزر سکیں گی۔ مال بردار گاڑیوں نے پل کا استعمال شروع کر دیا ہے جبکہ مسافر ٹریفک کے لیے اسے 2026 کے اختتام تک مکمل طور پر فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ نئی گزرگاہ تجارت، سیاحت اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دے گی۔
اس پل کی تعمیر کا معاہدہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے 2024 میں شمالی کوریا کے دورے کے دوران ہوا تھا جبکہ تعمیر اپریل 2025 میں شروع ہوئی۔ پل کا نام سوویت فوجی افسر یاکوف نوویچینکو کے نام پر رکھا گیا ہے، جن کے بارے میں شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1946 میں ملک کے بانی رہنما کم جونگ اِل کی جان بچائی تھی۔
روس اور شمالی کوریا پہلے ہی ریلوے اور فضائی رابطوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ تاہم، یہ نیا پل ایسے وقت میں کھولا گیا ہے جب 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے سیاسی اور فوجی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا نے روس کو فوجی مدد بھی فراہم کی ہے، جس میں گولہ بارود اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔
یوں یہ پل صرف ایک نئی سڑک نہیں بلکہ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی عملی علامت بھی ہے۔ روس اسے تجارت اور رابطوں کے لیے اہم قرار دے رہا ہے، جبکہ اس نئی گزرگاہ سے دونوں ممالک کے درمیان سامان اور لوگوں کی نقل و حرکت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔





