لکی مروت: وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات دور نہ ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے لکی مروت سے اپنے احتجاجی مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے مارچ کا آغاز کیا۔ اتوار کی رات تک قافلہ ضلع کرک میں داخل ہو چکا تھا، جہاں شرکا نے رات قیام کرنا تھا۔
یہ مارچ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع کیا گیا۔ دونوں فریق خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی اور جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان تک رسائی کے مطالبے پر اختلافات دور نہ کر سکے۔
سہیل آفریدی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے کارکن مارچ کے ابتدائی مرحلے میں شامل ہونا تھے، جس کے بعد قافلے نے کرک کی جانب روانہ ہونا تھا۔
5 اکتوبر کو کرک سے کارکن مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ کی جانب بڑھے گا۔ اگلے روز کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے شرکا مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور متنی کے قریب قیام کرے گا۔
7 اکتوبر کو قافلہ پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے دوبارہ روانہ ہوگا، جبکہ ضلع خیبر اور پشاور کے دیگر علاقوں سے کارکن راستے میں مارچ کا حصہ بنیں گے۔ اس کے بعد قافلہ چارسدہ انٹرچینج کی جانب بڑھے گا، جہاں رات قیام کیا جائے گا۔
8 اکتوبر کو چارسدہ اور مہمند سے کارکن مارچ میں شامل ہوں گے، جس کے بعد خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے شرکا خیرآباد میں جمع ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے مطابق مارچ کے اگلے مرحلے کی حکمت عملی کا اعلان وہاں کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے اس مارچ کو پی ٹی آئی کی اس مہم کا حصہ قرار دیا ہے جسے پارٹی آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کے لیے جدوجہد قرار دیتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی 9 مئی 2023 سے منسلک تشدد کے واقعات کو دوبارہ نہیں ہونے دے گی۔





