لاہور: پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے اپنے خلاف جاری قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی انکوائری پر پریس کانفرنس کرنے یا عوامی سطح پر موقف پیش کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے دو بار اجازت مانگی، تاہم ذرائع نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ دونوں بار ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ سابق وائٹ بال کپتان نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے بعد اپنے ذاتی موبائل فون کی ضبطگی کے بعد کے واقعات کی تفصیلات اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ کی جانے والی خط و کتابت پر وضاحت دینے کے لیے بورڈ سے اجازت مانگی تھی۔
ذرائع کے مطابق رضوان نے اپنے سینٹرل کانٹریکٹ کی شق 16 کے تحت اجازت کے لیے درخواست دی تھی، جو کھلاڑی اور بورڈ کے درمیان باہمی تعاون پر زور دیتی ہے، جبکہ شق 4.1 کی پابندی بھی کی گئی جس کے تحت معاہدی امور پر میڈیا سے بات کرنے سے قبل پی سی بی کی منظوری لازمی ہے۔ رپورٹس کے مطابق رضوان بورڈ یا تحققیاتی اداروں پر کوئی الزامات عائد کیے بغیر صرف اپنا قانونی موقف اور الزامات کی حقیقت واضح کرنا چاہتے تھے۔ تاہم پی سی بی نے جاری تحقیقات کی باضابطہ راز داری برقرار رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔
یہ انکوائری پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے دوران آن لائن بیٹنگ اور ڈریسنگ روم کی معلومات کی مبینہ لیکس کی تحقیقات سے متعلق ہے۔ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران رضوان کے وکیل قاضی عمیر علی نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کو بتایا کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد ان کے موکل کو ہوٹل کی لابی میں بلا کر تین گھنٹے میں فون واپس کرنے کی یقین دہانی پر موبائل تحویل میں لیا گیا تھا، تاہم یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
رضوان نے اس کے بعد آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی یو) کو خط لکھ کر یہ تصدیق مانگی ہے کہ آیا موبائل فون کی ضبطگی کے دوران بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری کی گئی تھی یا نہیں۔ محمد رضوان اور اوپننگ بلے باز امام الحق رواں ماہ کے آغاز میں لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بھی کھلاڑی کے خلاف کوئی باضابطہ حتمی رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔





