پاکستان پیر کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے دو روزہ کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس کے بعد ایک سال کی مدت کے لیے تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرا بی نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف بشکیک میں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور کرغز قیادت کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی صدارتی مدت کی سب سے اہم پیش رفت اگلے سال اسلام آباد میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی ہوگی۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرا بی نے افغان عبوری حکومت کے وزیر داخلہ کی اس تجویز کا ذکر کیا جس میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک مخصوص دوطرفہ فریم ورک قائم کرنے کا کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فریم ورک کا پائیدار ہونا محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات پر منحصر ہے۔ انہوں نے کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ دوحہ فریم ورک کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی معاندانہ گماشتوں، بالخصوص ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، کے زیرِ استعمال نہ لایا جائے۔
ایران کے ساتھ تجارت سے متعلق ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے باہر یکطرفہ پابندیوں کی مخالفانہ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو نقصان دہ قرار دیا اور مضبوط دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حال ہی میں دورۂ ایران مشرق وسطیٰ کی کشیدگی میں پاکستان کے بطور ثالث کردار کے تناظر میں ہوا تھا۔
سرگودھا کے قریب کرانہ ہلز سے متعلق سابق بھارتی فوجی اہلکار کے دعوؤں پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے طاہر اندرا بی نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مئی کے واقعات کے دوران کسی بھی اسٹریٹجک اثاثے یا حساس انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی بیانیے یا بعد میں کیے گئے دعوؤں سے سرکاری آپریشنل ریکارڈز کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔





