اسٹاف رپورٹ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس آبی گزرگاہ اور اس کی آمدن کی تقسیم پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم بعد میں ایک سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک ابھی تفصیلات پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ”عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا،“ اور انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔
پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے ترجمان برگیڈیئر جنرل حسین محبی کے بیان میں بھی اسی بات کا اعادہ کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے پر کنٹرول اور اس کی آمدن کے حوالے سے ”ایسے نتائج حاصل ہو چکے ہیں جو دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہیں۔“
محبی کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ عبوری جنگ بندی یا یادداشت کے تحت تہران کی شرائط پوری نہیں کرتا آبنائے بند رہے گی، جس پر دونوں فریقوں نے جون میں اس کے ناکام ہونے سے قبل دستخط کیے تھے۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کے امریکی بحری حصار کا خاتمہ، ہرجانہ اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے ذریعے آمد و رفت کے کنٹرول پر ہفتوں سے بات چیت جاری ہے۔ تہران اور واشنگٹن دونوں نے علیحدہ علیحدہ بحری حصار عائد کر کے اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
جنگ سے قبل یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ آزادانہ جہاز رانی کے لیے کھلی تھی، لیکن تب سے ایران نے اس پر اپنے کنٹرول کو دباؤ کے ذریعے اور آمدن کے ذریعہ کے طور پر برقرار رکھا ہے اور جہازوں سے کمیشن وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی امریکہ مخالفت کر رہا ہے۔
خبروں کے مطابق رواں برس اپریل میں اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ ایران اور عمان کے درمیان اس تنگ آبی گزرگاہ پر اختلافات کے باعث جزوی طور پر ناکام ہو گیا تھا، جہاں سے 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے قبل دنیا کی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ اب توپیں زیادہ تر خاموش ہو چکی ہیں اور امریکی ملٹری سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تقریباً ایک ماہ سے ایران پر کسی حملے کی اطلاع نہیں دی ہے۔ واشنگٹن کی توجہ زیادہ تر اقتصادی دباؤ پر نظر آتی ہے، جس کے لیے وہ مزید پابندیوں کے ذریعے ایران کو اس کے تجارتی شراکت داروں سے الگ کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر رہا ہے۔
جہاز رانی کی ٹریکنگ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی منتقلی تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے اور پیر کے روز صرف 50 لاکھ بیرل تیل یہاں سے گزرا۔ جنگ سے قبل اس آبنائے سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل خام تیل گزرتا تھا۔





