اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف سے جمعرات کے روز پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیر اعظم ہاؤس میں الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر سعودی سفیر نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر اپنی حکومت کی جانب سے تعزیت کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں نواف المالکی کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے لیے ریاض کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ سفیر نواف المالکی 2017 سے پاکستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی سفیر کو ان کی سفارتی ذمہ داریوں کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان ”دیرینہ برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں ان کی شاندار خدمات“ پر شکریہ ادا کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پمز کے دردناک واقعے کے بعد دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اور اس نے پاکستانی عوام کے لیے دائمی امن و سلامتی کی دعا کی۔
بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا: ”وزارتِ خارجہ دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے پر، جس کے نتیجے میں متعدد نومولود بچے جاں بحق ہوئے، سوگوار خاندانوں اور برادر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت و عوام سے مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔“
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ والدین کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ برطانوی ہائی کمیشن نے نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کو ”دل دہلا دینے والا“ قرار دیا، جبکہ ترکیہ کے سفارت خانے نے گہرے دکھ اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجہ معلوم کرنے، فائر سیفٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے اور ریسکیو و فائر فائٹنگ آپریشنز کی افادیت کو پرکھنے کے لیے ایک الگ حقائق تلاش کرنے والی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





