اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور فی الحال اس کی رکنیت میں توسیع کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ اتحاد کا بنیادی مقصد دفاعی صلاحیت اور بازداریت کے ذریعے علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو پہلے اپنے درمیان تعاون اور اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، جس کے بعد اس معاہدے کو مستقبل میں ایسے ممالک کے لیے کھولا جا سکتا ہے جو اسی نوعیت کے مؤقف اور نقطہ نظر رکھتے ہوں۔
سجاد حیدر خان نے کہا، ’’اس مرحلے پر مکہ معاہدے کی توسیع سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔‘‘
مکہ دفاعی معاہدہ سات اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے اور کسی ایک رکن کے خلاف مسلح جارحیت کو تمام ارکان کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔
تینوں ممالک اب اس معاہدے کو عملی اور ادارہ جاتی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے پہلے اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے اور دفاعی تعاون، مشترکہ سرگرمیوں، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان کو ابتدائی تین سال کے لیے اتحاد کے سیکریٹریٹ کی سربراہی بھی سونپی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور پاکستان اس کی ضروریات کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اتحاد کے ڈھانچے، طریقہ کار اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے ابھی اہم کام باقی ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں موجود حوثیوں کو حملے روکنے کے لیے قائل کرے۔
دفاعی وزیر خواجہ آصف نے اس سے ایک روز قبل کہا تھا کہ کسی رکن کے خلاف جارحیت کی صورت میں مکہ معاہدے کی باہمی دفاعی شق فعال ہو سکتی ہے۔ تاہم وزارت خارجہ کے تازہ بیان میں فوری توجہ اتحاد کی توسیع کے بجائے اس کے موجودہ ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
اب تینوں ممالک کے لیے اصل مرحلہ اس معاہدے کو عملی شکل دینا ہے۔ معاہدہ ہو چکا ہے، ادارہ سازی شروع ہو گئی ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ یہ دفاعی عزم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عملی طور پر کیسے کام کرتا ہے۔





