کراچی: پاکستان کے مجموعی سیال زرمبادلہ ذخائر 11 ستمبر تک بڑھ کر 26.79 ارب ڈالر ہو گئے، جس میں تازہ یورو بانڈ کی رقم موصول ہونے کے بعد ایک ہفتے کے دوران نمایاں اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 11 ستمبر کو ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 26.7912 ارب ڈالر تھے، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ 23.7158 ارب ڈالر تھے۔ مجموعی اضافے میں مرکزی بینک کے ذخائر میں 3.061 ارب ڈالر کا اضافہ نمایاں رہا۔
اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 21.389 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5.4022 ارب ڈالر رہے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے ذخائر میں اضافے کی بنیادی وجہ پاکستان کے یورو بانڈ کے اجرا سے حاصل ہونے والی رقم کی وصولی کو قرار دیا ہے۔ اسی دوران کمرشل بینکوں کے ذخائر میں بھی 14.6 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
تازہ اعداد و شمار موجودہ سلسلہ وار ریکارڈ میں مجموعی ذخائر کی بلند ترین سطح کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم اس اضافے کی نوعیت اہم ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ہونے والا بڑا اضافہ بنیادی طور پر بیرونی قرض کے ذریعے حاصل ہونے والی یورو بانڈ کی رقم سے آیا ہے، نہ کہ صرف برآمدات یا ترسیلات زر میں ایک ہفتے کے غیر معمولی اضافے سے۔
پاکستان نے حالیہ یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جس کی رقم ملک کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں شامل ہوئی۔ اس سے فوری طور پر بیرونی ادائیگیوں کے لیے دستیاب ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم حکومت پر مستقبل میں اس رقم کی واپسی کی ذمہ داری بھی موجود رہے گی۔
زرمبادلہ کے ذخائر اس لیے اہم ہیں کہ وہ درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ زیادہ ذخائر ادائیگیوں کے توازن اور روپے کی قدر پر قلیل مدتی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہتر کر سکتے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ مرکزی بینک زرمبادلہ ذخائر کے اعداد و شمار ہر ہفتے جاری کرتا ہے اور ہر رپورٹ گزشتہ جمعے تک کی صورتحال ظاہر کرتی ہے۔
26.79 ارب ڈالر کے ذخائر پاکستان کے لیے فوری طور پر ایک بڑا بیرونی مالی بفر فراہم کرتے ہیں، لیکن اس اضافے کا ذریعہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ چونکہ حالیہ اضافے کا بڑا حصہ یورو بانڈ کی رقم سے آیا ہے، اس لیے طویل مدت میں ذخائر برقرار رکھنے کے لیے برآمدات، ترسیلات زر، سرمایہ کاری اور دیگر مستقل زرمبادلہ ذرائع اہم رہیں گے۔





