اسلام آباد: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کی دیر رات مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ٹیلیفون پر اعلیٰ سطحی گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی صورتحال پر باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل ’ریجنل فور‘ (آر 4) وزرائے خارجہ فریم ورک کے ذریعے قریبی مشاورت کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اسلام آباد اور قاہرہ کے مابین برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں وزرا نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے موقع پر باضابطہ دوطرفہ ملاقات کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
یہ اعلیٰ سطحی رابطہ ’آر 4‘ پلیٹ فارم کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جو رواں برس کے شروع میں علاقائی بحرانوں سے نمٹنے، امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات کو کم کرنے اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہ تازہ ترین گفتگو گزشتہ ماہ کے آخر میں استنبول میں ہونے والے چار ملکی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے، جو 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کے بعد آر 4 کی پہلی بڑی پیش رفت ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ تینوں فریقین کو اجتماعی دفاع کا پابند بناتا ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ اس میں فوجی تعاون میں بہتری اور دفاعی ٹیکنالوجی کا اشتراک بھی شامل ہے۔
ابھرتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی فریم ورک میں مصر کی ممکنہ شمولیت ان جاری کوششوں کا مرکزی نقطہ ہے۔ اگرچہ ترک حکام نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ مصر اپنی اہم فوجی طاقت اور اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اس نئے نظام کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم مکہ معاہدے کی حتمی منظوری کے وقت مصر دستخط کنندگان میں شامل نہیں تھا۔ آر 4 کے تحت جاری بات چیت چاروں ممالک کو اپنی سیاسی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کرنے اور فوجی اتحاد میں مصر کی فوری باضابطہ شمولیت کے بغیر علاقائی سیکیورٹی نظام میں اس کے کردار کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔





