اسلام آباد: دفتر خارجہ نے جمعرات کو وضاحت کی ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد، نوزائیدہ 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کے تحت کسی فوری فوجی ردعمل پر غور نہیں کیا جا رہا۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل یہ سہ فریقی معاہدہ مکمل طور پر فعال ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "وقت آنے پر" اسلام آباد اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اقدام کرے گا۔
یہ بیان سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر حوثی جنگجوؤں کے ان حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور جس کے جواب میں عرب اتحاد نے یمن کے صوبے الحدیدہ میں فضائی کارروائیاں کیں۔ اس معاہدے کو محض ایک دفاعی اور بازدارانہ فریم ورک قرار دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ اگرچہ پاکستانی دستے تربیت اور لاجسٹکس کے سلسلے میں اس وقت بھی سعودی عرب میں موجود ہیں، لیکن کسی تیسرے ملک کی اس میں شمولیت سے قبل آپریشنل تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سیکورٹی صورتحال کے علاوہ، دفتر خارجہ نے علاقائی سفارت کاری سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا۔ ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس رپورٹ کو "بے بنیاد" قرار دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے، اور واضح کیا کہ تہران کے ساتھ تجارتی امور صرف اور صرف قومی مفادات کی روشنی میں طے پا رہے ہیں۔
وسیق تر سفارتی محاذ پر، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ، سعودی عرب، مصر، کویت اور ناروے کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں علاقائی سلامتی، فلسطین کی صورتحال اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان نے افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ایک پرامن پڑوسی اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم سرحد پار دہشت گردی کا روک تھام ایک بنیادی شرط ہے۔
علاوہ ازیں، پاکستان نے بھارت میں تاریخی اسلامی مقامات کی سرکاری سرپرستی میں مسماری کی مذمت کی، قید کشمیری رہنما یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ اپریل 2027 میں اسلام آباد 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا۔





