عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں تقریباً چار ماہ بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہفتہ ختم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں اہم بحری راستوں پر حملوں نے عالمی سپلائی میں طویل رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت جمعے کو 81 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے بعد 108.44 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 69 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 103.17 ڈالر فی بیرل پر رہا۔ دونوں اہم اشاریوں میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔
ہفتہ وار بنیاد پر دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتیں تقریباً 13 فیصد بلند ہوئیں، جو 17 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔
قیمتوں پر سب سے بڑا دباؤ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں سے پیدا ہو رہا ہے۔ خطے میں بڑھتے حملوں کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہو گئی ہے، جبکہ یمن میں ایران سے منسلک حوثیوں کے ہاتھوں موچا بندرگاہ پر قبضے نے بحیرہ احمر کی تجارت کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔
سعودی عرب میں توانائی تنصیبات پر حملوں نے بھی خدشات میں اضافہ کیا ہے کہ کشیدگی ایران اور آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے میں توانائی کی ترسیل کے مزید راستوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس صورتحال کے اثرات تیل کی منڈی سے باہر بھی نظر آ رہے ہیں۔ امریکا میں قومی اوسط ڈیزل قیمت جمعرات کو پہلی مرتبہ چھ ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ توانائی کی بلند قیمتیں افراط زر میں اضافے اور مرکزی بینکوں پر شرح سود بلند رکھنے کے دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مسلسل بلند عالمی قیمتیں خاص طور پر اہم ہیں۔ خام تیل مہنگا رہنے کی صورت میں درآمدی بل، نقل و حمل، صنعت اور ایندھن کی مقامی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم عالمی طلب میں کمزوری قیمتوں کے اضافے کو محدود کرنے والی ایک اہم قوت ہے۔ اوپیک نے 2026 میں عالمی تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی مسلسل پانچویں مرتبہ کم کی ہے، جبکہ اگست میں تنظیم کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اب مارکیٹ کی سمت صرف قیمتوں میں اضافے سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوگی کہ تیل کی حقیقی سپلائی بحال ہوتی ہے یا بحری راستوں میں رکاوٹ مزید بڑھتی ہے۔ اگر سپلائی کا بحران برقرار رہا تو 100 ڈالر کی سطح محض ایک عارضی حد نہیں بلکہ عالمی مہنگائی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز بن سکتی ہے۔





