اسلام آباد: پمز میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی کے دوران ایک نومولود کو بچانے والی اسٹاف نرس رضیہ نورین کو ان کی بہادری پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اس واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق رضیہ نورین تقریباً صبح 6 بج کر 38 منٹ 56 سیکنڈ پر جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہوئیں اور تقریباً آٹھ سیکنڈ بعد ایک نومولود کو بحفاظت باہر لے آئیں۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم دھویں اور شعلوں کی شدت میں اضافے کے باعث وہ ایسا نہ کر سکیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق پہلی مرتبہ ہنگامی صورتِ حال سامنے آنے کے تقریباً دو منٹ کے اندر نرسری کے حالات انتہائی سنگین ہو گئے تھے۔
آتشزدگی پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں ہوئی، جہاں 15 نومولود زیرِ علاج تھے۔ واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے، جبکہ نرس رضیہ نورین کی جانب سے بچایا جانے والا بچہ نرسری سے زندہ نکالے جانے والا واحد نومولود تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رضیہ نورین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دی ہے۔ انہیں نومولود کی جان بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے پر ایک کروڑ روپے کا نقد انعام بھی دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے وارڈ میں موجود رضیہ نورین اور ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکومتی تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں فائر سیفٹی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی ردِعمل کے انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کے درست تکنیکی سبب کا تاحال حتمی طور پر تعین نہیں کیا جا سکا اور اس حوالے سے مزید تحقیقات درکار ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے نتیجے میں آٹھ اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت نے پمز میں تعینات سیکیورٹی کمپنی کے حوالے سے بھی کارروائی کی ہدایت کی ہے، جو اس کی معاہداتی ذمہ داریوں سے متعلق ابتدائی تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
آتشزدگی کے واقعے نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں، تاہم رضیہ نورین کی جانب سے نومولود کو بچانے کی کوشش اس سانحے میں ایک حوصلہ افزا پہلو کے طور پر سامنے آئی ہے۔
جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو کر نومولود کو بحفاظت باہر نکالنے کے ان کے اقدام نے انہیں قومی سطح پر پذیرائی دلائی ہے۔
رضیہ نورین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اقدام کسی انعام یا اعزاز کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور اپنی زیرِ نگہداشت بچوں کے لیے فکر کے تحت کیا۔
رضیہ نورین کو خراجِ تحسین پیش کیے جانے کے ساتھ ہی حکام کی جانب سے پمز آتشزدگی کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک بھر کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی ردِعمل اور انخلا کے طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔





