ارکتسک: روس کے سائبیریا میں اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک ملازمہ کی موت کے بعد تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ حکام ان رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں خاتون کے پلیگ سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے خاتون کی شناخت 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن سے کی ہے۔ وہ شدید نمونیا میں مبتلا ہونے کے بعد ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں، جہاں بعد ازاں ان کی موت ہو گئی۔ خاتون کی بیماری اور موت کی اصل وجہ کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
روس کی ہمسایہ جمہوریہ بوریاتیا کے سربراہ الیکسی تسیڈینوف نے 3 اکتوبر کو کہا تھا کہ خاتون کی موت "ممکنہ طور پر" پلیگ سے ہوئی۔ بعض میڈیا رپورٹس میں بھی ان کی بیماری کو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ممکنہ طور پر انفیکشن سے متاثر ہونے سے جوڑا گیا ہے۔
تاہم روس کے صحت عامہ کے نگران ادارے روسپوتریب نادزور نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ خاتون پلیگ سے متاثر تھیں۔ ادارے کے مطابق ان میں نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی، جبکہ مزید ٹیسٹوں میں ایسا کوئی جرثومہ نہیں ملا جس کا تعلق ان کے پیشہ ورانہ کام سے ثابت ہو۔
روسی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ میں بیماری پھیلانے والے جرثوموں پر کام کے دوران کسی حادثے کا ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
احتیاطی اقدام کے طور پر خاتون سے ممکنہ رابطے میں آنے والے 189 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیف کے مطابق زیرِ نگرانی افراد میں بیماری کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں اور اب تک ان کے لیبارٹری ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ ارکتسک اور قریبی شہر شیلیخوف میں وبائی صورتحال مستحکم ہے۔
اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق واشنگٹن ارکتسک میں نمونک پلیگ کے ایک مشتبہ مہلک کیس سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہے اور امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سمیت دیگر اداروں کے ساتھ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
نمونک پلیگ پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والا انفیکشن ہے جو قریبی رابطے کے دوران سانس سے خارج ہونے والے قطروں کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتا ہے۔ پلیگ Yersinia pestis نامی بیکٹیریا سے ہوتا ہے اور بروقت تشخیص کی صورت میں اینٹی بایوٹکس سے اس کا علاج ممکن ہے۔
تاحال روسی حکام نے لیبارٹری ملازمہ کی موت کی وجہ پلیگ ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی کسی وسیع تر وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔





