لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بیرونِ ملک لوگوں کو مبینہ سائبر فراڈ کا نشانہ بنانے کی تحقیقات کے سلسلے میں لاہور کے دو غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مار کر 36 افراد کو حراست میں لے لیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ٹیموں نے فیصل ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن میں کارروائیاں کیں، جہاں ملزمان مبینہ طور پر بغیر اجازت کال سینٹرز چلا رہے تھے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ان کال سینٹرز سے ڈائل اپ اور وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) سافٹ ویئر کے ذریعے بین الاقوامی کالز کی جاتی تھیں۔ کال کرنے والے افراد مبینہ طور پر خود کو موبائل فون کمپنیوں اور ٹیلی کمیونیکیشن اداروں کے نمائندے ظاہر کرتے اور بیرونِ ملک لوگوں کو جعلی موبائل اپ گریڈ، نیٹ ورک پیکجز اور دیگر سروسز کی پیشکش کرتے تھے۔
چھاپوں کے دوران این سی سی آئی اے نے کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور موبائل فونز قبضے میں لے لیے۔ حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں بعض آلات سے ڈائل اپ سافٹ ویئر اور ایسا ڈیٹا ملا جو مبینہ طور پر فراڈ کی سرگرمیوں سے منسلک ہے۔ ڈیجیٹل شواہد کو مزید جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پہلے کال سینٹر پر چھاپے کے بعد ہونے والی تحقیقات کے دوران دوسرے کال سینٹر کا سراغ ملا۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ دوسرے مقام پر کارروائی کے دوران ٹیم کو سکیورٹی گارڈز کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
کئی ایسی گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں مبینہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدا گیا تھا۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں کال سینٹرز کے مالکان، سہولت کاروں اور مبینہ طور پر اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مالی لین دین اور ممکنہ بیرونِ ملک روابط کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
لاہور میں ہونے والی یہ کارروائیاں مبینہ فراڈ میں ملوث کال سینٹرز کے خلاف جاری وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں این سی سی آئی اے نے راولپنڈی کے ایک کال سینٹر سے 61 افراد کو حراست میں لیا تھا، جو مبینہ طور پر بیرونِ ملک قرضوں کی وصولی کے نام پر فراڈ میں ملوث تھا۔ اسی طرح کراچی میں دو کال سینٹرز پر چھاپوں کے دوران 70 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن پر امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔
این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کا مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل اور مالی ساکھ کا تحفظ کرنا ہے۔ لاہور میں ہونے والی ان کارروائیوں سے متعلق تحقیقات تاحال جاری ہیں۔





