اسلام آباد: قومی اسمبلی کی انسانی حقوق قائمہ کمیٹی نے پیر کے روز ملک بھر میں ریپ، جنسی ہراسانی اور صنف کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پولیس حکام کو کارروائی میں تاخیر اور غفلت پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے مجرمان بار بار قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے حنا جاوید اور آیات نور کے بے رحمانہ قتل اور ڈاکٹر عائشہ کے ہراسانی کے کیس سمیت کئی اہم واقعات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اراکین نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ تفتیشی عمل میں خامیوں اور غفلت کے باعث ان کیسز کے ملزمان کو ابھی تک سزا نہیں مل سکی ہے۔ ان ناکامیوں کے ازالے کے لیے کمیٹی نے وزارتِ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ عدالتوں میں ان مقدمات کی مؤثر پیروکاری کرے تاکہ ملزمان کو بلا تاخیر کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
طویل المدتی احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی نے سرکاری حکام کو ہدایت کی کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق موجودہ قوانین کا سخت نفاذ کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے درمیان بہترین آپریشنل رابطے قائم کریں۔ مزید برآں، پارلیمانی پینل نے متاثرہ علاقوں کے مقامی اراکینِ پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ تفتیشی اداروں کے ساتھ براہِ راست رابطہ رکھیں تاکہ شفاف نگرانی اور صنف کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کا بروقت تدارک ممکن ہو سکے۔





