لاہور: لاہور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 20 سالہ غیر ملکی خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تین افراد کے نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹی فیکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل کرنے کے لیے وفاقی حکام سے باقاعدہ درخواست کر دی ہے۔
کاروباری دورے پر پاکستان آنے والی متاثرہ خاتون کو جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات رائے ونڈ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کرائے کے فلیٹ میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ڈیفنس سی تھانے کی حدود میں کسی غیر ملکی زائر کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا رپورٹ ہونے والا دوسرا واقعہ ہے۔
واقعے کے بعد ملزمان صوبائی دارالحکومت سے فرار ہو گئے۔ تفتیش کاروں نے ڈیجیٹل ٹریکنگ اور لوکیشن ٹریسنگ کی مدد سے ایک اہم ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ سیالکوٹ میں لگایا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ملزمان کی باقاعدہ شناخت کر لی گئی ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ ڈویژن عاصم افتخار کی سربراہی میں مشترکہ آپریشنل ٹیمیں مختلف اضلاع میں ہدف بنا کر چھاپے مار رہی ہیں۔
مرکزی ملزمان کی نشاندہی میں مدد کے لیے پولیس نے ایک اہم ملزم کے دو قریبی رشتہ داروں اور ایک گھریلو ملازم کو حراست میں لے لیا ہے۔
جرم کے ارتکاب میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کو فارنزک معائنے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ وفاقی بارڈر کنٹرول ایجنسیاں ملزمان کی بیرونِ ملک فرار کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے الرٹ پر ہیں۔





