اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں سکیورٹی سے متعلق وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں محسن نقوی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
وزیر داخلہ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر دوبارہ غور کرنے اور سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے الگ رکھنے کے اقدامات پر بھی اتفاق کیا تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے عسکریت پسند گروہوں کو صوبے میں آزادانہ سرگرمیوں یا محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے بھی کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون سے متعلق اختلافات مذاکرات کا اہم نکتہ رہے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں تعاون پر آمادہ ہوں تو مزید مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے تاحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔





