لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکام ان کے خاندان کے متعدد افراد کے گھروں میں داخل ہوئے اور انہیں زبردستی گاڑیوں میں لے گئے۔
قاسم نے ایکس پر جاری بیان میں اپنی خالاؤں ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین اور کزنز شیرشاہ اور شہریز کو مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے افراد میں شامل کیا۔
بعد میں انہوں نے بتایا کہ ان کے کزن کے بچے محفوظ ہیں، تاہم ان کے دو مزید کزنز عظیم اور سکینہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
قاسم خان نے ان واقعات کو اغوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کو نہ کسی الزام یا گرفتاری کی وجہ سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی زیر حراست افراد کا مقام بتایا گیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل بھی کی۔
خبر شائع ہونے تک ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ حکام نے ان افراد کی حراست کی باضابطہ تصدیق، ان کا مقام یا قاسم خان کے الزامات پر کوئی عوامی ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
یہ اطلاعات عمران خان کی ایک اور بہن علیمہ خان کی لاہور میں گرفتاری کے بعد سامنے آئیں۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے علیمہ خان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عوامی مقام پر ان کی موجودگی سے امن عامہ کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
علیمہ خان کے خاندان اور پاکستان تحریک انصاف نے اس جواز کو مسترد کرتے ہوئے ان کے مقام اور قانونی سلوک پر سوال اٹھائے ہیں۔
یہ گرفتاریاں پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ مارچ سے پہلے سامنے آئی ہیں۔ پارٹی نے یہ مارچ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت احتجاج روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ تحریک انصاف نے حکام پر عمران خان کے خاندان اور سیاسی ساتھیوں کو حراست میں لے کر احتجاج دبانے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
خبر شائع ہونے تک یہ واضح نہیں تھا کہ قاسم خان کے نامزد کردہ افراد کو کسی مقدمے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا یا حفاظتی حراست میں رکھا گیا ہے۔





