ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کے معروف سیاسی کارکن جوشوا وونگ نے شہر کے قومی سلامتی قانون کے تحت غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت کے الزام میں جرم قبول کر لیا ہے، جبکہ انہیں سزا بعد کی تاریخ میں سنائی جائے گی۔
29 سالہ وونگ نے 2 ستمبر کو ہائی کورٹ میں جرم قبول کیا۔ اس مقدمے میں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وہ پہلے ہی تخریب کاری کی سازش کے جرم میں 4 سال اور 8 ماہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جس کا فیصلہ 2024 میں سنایا گیا تھا۔ ان کی موجودہ سزا جنوری 2027 میں مکمل ہونے والی ہے۔
تازہ مقدمہ جولائی سے نومبر 2020 کے درمیان کی سرگرمیوں سے متعلق ہے، جن میں وونگ، جلاوطن کارکن نیتھن لا اور دیگر افراد شامل تھے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ انہوں نے ہانگ کانگ اور چین کے خلاف پابندیوں یا دیگر اقدامات کے لیے غیر ملکی ممالک، تنظیموں اور افراد کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
استغاثہ نے بین الاقوامی سطح پر لابنگ کی کوششوں میں وونگ کے کردار کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا، جن میں 2019 میں امریکا سے منظور ہونے والے ہانگ کانگ ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ایکٹ سے متعلق حمایت بھی شامل تھی۔ عدالت میں الزامات پیش کیے جانے کے دوران وونگ نے ان کی تردید نہیں کی۔
وونگ 2014 کی ’امبریلا موومنٹ‘ کے دوران نوعمری میں سیاسی کارکن کی حیثیت سے نمایاں ہوئے تھے اور بعد ازاں 2019 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران جمہوریت نواز تحریک کی اہم شخصیات میں شامل رہے۔ وہ سیاسی گروپ ڈیموسسٹو کے شریک بانی بھی تھے، جسے قومی سلامتی قانون کے نفاذ کے بعد 2020 میں تحلیل کر دیا گیا تھا۔
چین نے جون 2020 میں ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون نافذ کیا تھا، جس کے تحت علیحدگی پسندی، تخریب کاری، دہشت گردی اور غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت سمیت مختلف اقدامات کو جرائم قرار دیا گیا ہے۔
چین اور ہانگ کانگ کے حکام نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین نے سیاسی آزادیوں اور اختلافِ رائے پر اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وونگ کی جانب سے جرم قبول کیے جانے سے ان کی حتمی سزا پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم عدالت نے ابھی سزا سنانے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ ان کے وکیلِ صفائی نے نرمی کی درخواست کرتے ہوئے وونگ کی پہلے سے گزاری گئی قید اور دورانِ حراست ان کے طرزِ عمل کا حوالہ دیا ہے۔
اس مقدمے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ ہانگ کانگ کے حکام سیاسی سرگرمیوں اور مبینہ غیر ملکی مداخلت سے متعلق مقدمات میں قومی سلامتی قانون کا اطلاق جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وونگ کے خلاف کارروائی قومی سلامتی پر حکام کے زور اور ناقدین کی جانب سے ہانگ کانگ میں سیاسی اختلافِ رائے کے لیے دستیاب گنجائش سے متعلق خدشات کے درمیان جاری کشیدگی کو بھی نمایاں کرتی ہے۔





