اسلام آباد: جماعت اسلامی (جے آئی) نے اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کی مجوزہ کثیرالجماعتی کانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جبکہ اتحاد مجوزہ اجلاس سے قبل سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مشتمل ٹی ٹی اے پی کے وفد نے جمعے کو جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی اور انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، جمہوری عمل، آئینی معاملات اور دیگر قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹی ٹی اے پی کے مطابق شرکا نے ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا۔
ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو امن و امان، معیشت اور عوامی حقوق سے متعلق معاملات پر مشتمل قومی ایجنڈا تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی تجاویز کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے آئین معطل ہو یا اسے نظر انداز کیا جائے۔ یہ معاملہ پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ سے قبل وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کے دوران سامنے آیا ہے۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک کی سکیورٹی، سیاسی اور معاشی صورتحال پر باہمی مشاورت کرنی چاہیے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر کام کرنا چاہیے۔
ٹی ٹی اے پی کے وفد نے الگ سے سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی اور انہیں مجوزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
اپوزیشن اتحاد ستمبر میں کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کرنے کے بعد سے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی دعوت دی گئی ہے اور پارٹی نے کہا ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
ٹی ٹی اے پی کے مطابق کانفرنس پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے احتجاج کے بعد منعقد ہوگی، تاہم اس کی تاریخ اور مقام کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اتحاد نے کانفرنس کے ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔





