اسلام آباد: ایک اعلیٰ سطحی حکومتی کمیٹی نے مبینہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف کو اسلام آباد میں 26 رکنی منتخب اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس نظام میں ایک منتخب سربراہ ہوگا جبکہ چیف کمشنر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کی جگہ چیف سیکریٹری کا عہدہ لانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات اور بلدیاتی خدمات سمیت متعدد شعبے منتخب انتظامیہ کے ماتحت لانے کی بات کی گئی ہے۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کی کارکردگی پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔ 25 کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں زیادہ تر بڑے انتظامی اور مالی فیصلے وفاق اور چار صوبائی حکومتوں کے درمیان مرکوز ہیں۔ تاہم بحث اب صرف نئے صوبے بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اختیارات کے حد سے زیادہ مرکز میں جمع ہونے کا مسئلہ بھی اس کا اہم حصہ بن گیا ہے۔
کئی وفاقی وزرا اور سیاسی حلقے موجودہ ڈویژنز کو زیادہ مضبوط انتظامی اکائیوں میں تبدیل کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔ اس تصور کے تحت نئے آئینی صوبے بنانے کے بجائے موجودہ صوبائی حدود برقرار رکھتے ہوئے ڈویژنوں اور اضلاع کو زیادہ انتظامی اختیار، وسائل اور فیصلہ سازی کی طاقت دی جا سکتی ہے۔
نئے صوبے بنانے کی راہ میں آئینی رکاوٹ بھی موجود ہے۔
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے کسی موجودہ صوبے سے نیا صوبہ بنانے کا معاملہ صرف وفاقی سطح پر سیاسی اتفاق رائے سے حل نہیں ہو سکتا، بلکہ متعلقہ صوبے کی اسمبلی کی منظوری بھی ضروری ہے۔
اختیارات کی منتقلی کے لیے صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی قانون سازی کے ذریعے متعدد انتظامی ذمہ داریاں مقامی حکومتوں اور صوبے کے اندر موجود دیگر اداروں کو منتقل کی جا سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ صوبائی حدود تبدیل کی جائیں۔
اسلام آباد کی تجویز اسی فرق کو واضح کرتی ہے۔ اس میں نئے صوبے کے بجائے وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک زیادہ جواب دہ اور منتخب انتظامی نظام بنانے کی بات کی جا رہی ہے، جو شہریوں سے براہ راست متعلق خدمات پر اختیار رکھے۔
اس بحث کا اصل سوال شاید یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، بلکہ یہ ہے کہ اختیار کہاں ہونا چاہیے؟
اگر تعلیم، صحت، بلدیاتی امور اور ترقیاتی فیصلوں کا بڑا حصہ وفاق یا صوبائی دارالحکومتوں میں ہی مرکوز رہے تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے انتظامی مسائل لازماً حل نہیں ہوں گے۔
پاکستان میں صوبائی نقشے کو تبدیل کیے بغیر بھی اختیارات، وسائل اور جواب دہی کو عوام کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ یہی ممکنہ طور پر آئندہ کی صوبائی اور انتظامی اصلاحات کی بحث کا سب سے اہم نکتہ ہوگا۔





