تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کی کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا عملی شرکت کو امریکی جارحیت کی براہِ راست حمایت تصور کیا جائے گا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران سیول کے ساتھ اپنے 64 سالہ تاریخی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ جاری تنازع کے دوران خطے میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا کسی بھی خودمختار ریاست کو ایرانی عوام کے خلاف امریکی اقدامات میں حصہ دار بنا دے گا۔ اسماعیل بقائی نے موقف اپنایا کہ بحری آمدورفت میں جاری خلل کا آغاز 28 فروری کو تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جبکہ واشنگٹن جنگ کے مالی اور لوجسٹک اخراجات کا بوجھ عالمی برادری پر منتقل کر رہا ہے۔
یہ تنبیہ تہران کی جانب سے ایک نیا ممنوعہ بحری زون قائم کرنے کے منصوبے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اتوار کو اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں خلیج اور آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں پر مشتمل ایک ممنوعہ زون قائم کیا جائے گا۔ محسن رضائی کے مطابق، اس مقررہ زون میں داخل ہونے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔
بحری کشیدگی میں یہ اضافہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والے 6 ماہ کے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے، جو جون میں ابتدائی جنگ بندی کی ناکامی کے بعد سفارتی جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ حال ہی میں عسکری جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے امریکی بحریہ کے دو جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد 3 ایرانی تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ ایرانی مفادات پر آئندہ کسی بھی حملے کا جواب مزید تیز اور شدید دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی، تہران امریکہ کی اس بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید ملکی معاشی دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مقصد ایرانی خام تیل کی برآمدات کو روکنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بنیادی ڈھانچے بشمول جزیرہ خارگ کے برآمدی مرکز، جو جنگ سے قبل ایران کی 90 فیصد خام تیل کی برآمدات کو سنبھالتا تھا، کو حالیہ مہینوں میں تقریباً 550 بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کے باوجود، ایرانی وزیرِ پٹرولیم محسن پاک نژاد نے تصدیق کی کہ یہ ٹرمینل فعال ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ بحری کارروائیاں نقل و حمل کی روانی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور تنازع سے قبل کے حجم کا دو تہائی حصہ آبنائے اور متبادل پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہو رہا ہے۔
بڑھتے ہوئے معاشی نقصان کی تلافی کے لیے، ایرانی حکام نے بتایا کہ حکومت کا ”اقتصادی جنگی ہیڈ کوارٹر“ افراطِ زر، کرنسی کی عدم استحکام اور ملکی سپلائی میں خلل کو کنٹرول کرنے کے لیے مالیاتی اصلاحات تیز کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ اقتصاد علی مدنی زادہ نے عزم ظاہر کیا کہ غیر ملکی معاشی دباؤ تہران کو اپنے اسٹریٹجک فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔




