ویب ڈیسک: ایران آبنائے ہرمز کے باہر ایک نئی بحری حدود قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ اس حوالے سے تفصیلات آنے والے دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
محسن رضائی کے مطابق نئی حدود امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج کے بعض علاقوں تک پھیلیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نئے علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے اطراف بحری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس اہم بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ ایران عمان کے ساتھ مل کر ایک نئی بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر کام کر رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس راستے کا تعین عمان کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے اور اس کا اعلان بھی آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔
مجوزہ محدود بحری حدود خلیج کے اطراف کام کرنے والی تجارتی کمپنیوں کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز تیل اور دیگر اہم اجناس کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اس لیے اس کے اطراف کسی بھی نئی پابندی کا اثر بحری کمپنیوں اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے محدود علاقے اور نئی بحری گزرگاہ کا اعلان بیک وقت دو مختلف اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک طرف تہران اہم سمندری علاقوں میں بحری نقل و حرکت کو منظم کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب عمان کے ساتھ نئے راستے کے ذریعے تجارتی آمدورفت کے لیے ایک متبادل انتظام کی بات کر رہا ہے۔
نئی حدود اور بحری گزرگاہ کی حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ان اقدامات کا تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر عملی طور پر کتنا اثر پڑے گا۔





