ویب ڈیسک: نیا متعارف کرایا گیا 'میٹ XT2' دو بار کھل کر ایک ٹیبلٹ سائز اسکرین میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس میں ہواوے کی اپنی 'کیرن 9050 پرو' چِپ استعمال کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس چِپ کا ڈیزائن کم بجلی کے استعمال میں زیادہ کمپیوٹنگ پاور فراہم کرتا ہے، جس سے کمپنی کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی پر عائد امریکی پابندیوں پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔ کمپنی کے اپنے ٹیسٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نیا پروسیسر، دیگر اندرونی اپ گریڈز کے ساتھ مل کر، اپنے پچھلے ماڈل کے مقابلے میں 42 فیصد بہتر مجموعی کارکردگی دکھاتا ہے۔
یہ پیشکش مارکیٹ کے لیے ایک ایسے اہم وقت پر سامنے آئی ہے جب 'کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ' کے انڈسٹری ڈیٹا کے مطابق، دوسری سہ ماہی میں چین میں اسمارٹ فونز کی مجموعی ترسیل (شپمنٹس) میں 2.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اپنے اپ گریڈ شدہ اندرونی سسٹمز سے ہٹ کر، 'میٹ XT2' میں دوبارہ ڈیزائن کیا گیا فولڈنگ میکانزم، پانی سے بہتر مزاحمت (واٹر ریزسٹنس)، اپ گریڈ شدہ کیمرے، اور ایک اختیاری پرائیویسی اسکرین شامل ہے جو آس پاس موجود لوگوں کو سائیڈ اینگلز سے ڈسپلے دیکھنے سے روکتی ہے۔
اس فون کی لانچنگ کے ساتھ ہی چین میں حریف مصنوعات کی نمائش کے ایک انتہائی سخت ہفتے کا آغاز ہو گیا ہے۔ 'شاومی' بھی پیر کے روز ہی اپنا ایک حریف فولڈنگ فون متعارف کروانے والی ہے، جبکہ 'ایپل' بدھ کو اپنی تازہ ترین آئی فون سیریز پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس بات کی شدید توقعات کی جا رہی ہیں کہ وہ بھی اپنا کوئی فولڈ ایبل ماڈل متعارف کروا سکتا ہے۔
تجارتی پابندیوں کی وجہ سے امریکہ میں اپنے آلات نہ بیچ سکنے کے باوجود، ہواوے چین کی مجموعی اسمارٹ فون مارکیٹ میں سرفہرست پوزیشن پر براجمان ہے۔ تحقیقاتی ادارے 'آئی ڈی سی' کے اعداد و شمار کے مطابق دوسری سہ ماہی میں 22.6 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ ہواوے سب سے آگے رہا، جبکہ ایپل 18.1 فیصد کے ساتھ دوسرے اور شاومی 12.4 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کے شعبے میں ہواوے کا تسلط اور بھی زیادہ مضبوط ہے، جہاں 'اسمارٹ اینالیٹکس گلوبل' کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران چین میں ہونے والی تمام ترسیل کا 68 فیصد حصہ ہواوے کا تھا۔




