ویب ڈیسک: آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں حالیہ کمی کے بعد یہ مئی کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ کمی خطے میں امریکہ اور ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
شپنگ تجزیاتی ادارے Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ 10 اجناس لے جانے والے تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
یہ تعداد حالیہ دنوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اتوار کو 10 روزہ اوسط 10 جہاز رہی، جبکہ جمعہ کو یہ تعداد 15 سے زیادہ اور ہفتے کو تقریباً 13 تھی۔
روزانہ کی بنیاد پر بھی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ہفتے کو صرف دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ اتوار کو چھ جہاز وہاں سے گزرے۔ اتوار کو گزرنے والے زیادہ تر جہازوں نے ایرانی راستہ استعمال کیا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اجناس کی ترسیل کے لیے اس راستے کی اہمیت کے باعث یہاں بحری سرگرمیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر عالمی منڈیوں اور حکومتوں کی نظر رہتی ہے۔
حالیہ کمی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں ٹینکروں سے متعلق امریکہ اور ایران کے حملے بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی خدشات، انشورنس اخراجات، بحری آپریشن کے خطرات اور جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت سے متعلق خدشات تجارتی کمپنیوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
تاہم، بحری آمدورفت میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی ہے۔ اعداد و شمار البتہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں فوجی کشیدگی نے اس اہم بحری راستے پر تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔
آئندہ بحری آمدورفت کا رخ خطے کی سکیورٹی صورتحال اور تجارتی کمپنیوں کے اس راستے کو استعمال کرنے کے فیصلوں سے جڑا رہے گا۔





