اسلام آباد: ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کی سرحدی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا آغاز منگل کو دوپہر تقریباً ایک بج کر 45 منٹ پر ہوا اور وقفے وقفے سے جاری ہے۔ فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ تازہ جھڑپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے پیر کو افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 28 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم افغان حکام نے کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، اس سے قبل فتنۃ الخوارج نے کرم سیکٹر سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی، جبکہ افغان طالبان اس کارروائی کی نگرانی کر رہے تھے۔
دراندازی کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد افغان طالبان کے جنگجوؤں نے مبینہ طور پر کرم کے علاقے میں پاکستانی سرحدی اہلکاروں پر بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق، دراندازی کی یہ کوشش پکتیا اور ننگرہار کے علاقوں میں قائم افغان چوکیوں سے کی گئی۔
سرحد پر تعینات پاکستانی فوجیوں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دراندازوں کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، اس کے بعد افغان طالبان کے جنگجوؤں نے بھاری ہتھیاروں اور مارٹر گولوں سمیت مختلف ہتھیاروں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
جوابی کارروائی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے توپ خانے اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا اور افغان طالبان کے متعدد دفاعی مورچوں، مارٹر پوزیشنز اور سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث افغان طالبان کے اہلکار پیچھے ہٹنے اور متعدد چوکیاں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔





