اسلام آباد: وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور اپوزیشن کے اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کی وجوہات پر مختلف مؤقف پیش کیے ہیں۔
اتوار کی علی الصبح مذاکرات کئی مرتبہ مسودے تیار کیے جانے کے باوجود کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ دونوں فریق خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر تعاون اور جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان تک رسائی کے مطالبے پر اختلافات دور نہ کر سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ابتدا میں تحریری معاہدے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات، افغان مہاجرین کی پالیسی اور پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی شامل تھی، تاہم بعد میں صوبائی حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
نقوی کے مطابق مجوزہ معاہدے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، انسداد دہشت گردی اور پولیس آپریشنز کے لیے صوبائی فنڈنگ اور صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے چار مسودے تیار کیے گئے اور دعویٰ کیا کہ بیشتر معاملات پر اتفاق ہو چکا تھا، تاہم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے تبدیلیوں کے مطالبے کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم میں شامل پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی کہا کہ مذاکرات اس وقت ناکام ہوئے جب خیبر پختونخوا حکومت نے انسداد دہشت گردی کے تعاون سے متعلق اس مسودے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس پر ان کے مطابق پہلے اتفاق ہو چکا تھا۔
پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف کو مسترد کیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اختلاف کا بنیادی نکتہ اپوزیشن کا عمران خان تک رسائی کا مطالبہ تھا۔
اسد قیصر کے مطابق اپوزیشن عمران خان سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات کی اجازت ملنے کی صورت میں اپنے دیگر مطالبات واپس لینے کے لیے تیار تھی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس شرط کو مجوزہ معاہدے میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے مذاکرات کی ناکامی کی ایک اور وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی اختلاف خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر تھا۔
راجا کے مطابق پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد مشترکہ طور پر انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر اتفاق کریں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی حکومت وفاقی حکام کی جانب سے شروع کیے گئے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی توثیق کرے۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سات نکاتی تجاویز جاری کیں، جن میں وزیراعظم اور اپوزیشن کے درمیان باقاعدہ رابطہ، مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی، عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی تک رسائی اور طبی سہولیات، سیاسی قیدیوں کے مقدمات کی جلد سماعت اور 72 گھنٹوں کے اندر وفاقی و صوبائی سکیورٹی حکمت عملی کی تشکیل شامل تھی۔
آفریدی نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی فراہم کرے تو پی ٹی آئی اپنا مارچ منسوخ کر دے گی۔
پی ٹی آئی نے عمران خان تک رسائی کے ساتھ ان کے طبی معائنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا، جس میں ان کے ذاتی معالج شامل ہوں۔ پارٹی کے مطابق حکومت نے عمران خان کی اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتیں بحال کرنے پر اتفاق کیا، تاہم طبی سہولیات سے متعلق اضافی مطالبات تسلیم نہیں کیے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ذاتی معالج تک رسائی کے علاوہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کارروائیوں اور نقل مکانی سے متعلق معاملات پر بھی اختلافات برقرار رہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد مارچ جاری رہے گا، تاہم سیاسی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں تعاون سے متعلق مطلوبہ یقین دہانیاں فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مذاکرات کے اگلے دور کے لیے تاحال کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔





