ڈلاس: سمندری گزرگاہ جو صدیوں سے ہرمز کے نام سے موسوم ہے، اب اس کے لیے ایک اور نیا نام تجویز کیا جا رہا ہے: ٹرمپ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کو “ٹرمپ اسٹریٹ” کہا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا اس اہم آبی راستے کو کنٹرول کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی انتخابات کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اس کے بدلے کچھ ملنا چاہیے، اور مذاقاً کہا کہ ایرانی قیادت نئے نام سے یقیناً “خوش” ہوگی۔
یہ بیان محض نام کی تبدیلی تک محدود نہیں۔
آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی افواج اس آبی راستے کو کنٹرول کرتی ہیں، جبکہ ایران بھی وہاں امریکی موجودگی اور جہاز رانی کے انتظامات کو چیلنج کر رہا ہے۔
گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے بین الاقوامی بحری راستوں سے ایرانی بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور تقریباً 1500 تجارتی جہازوں کو امریکی تحفظ میں آبنائے ہرمز سے گزارا گیا۔ تاہم یہ امریکی حکومت کے دعوے ہیں اور ان سے آبنائے پر امریکی خودمختاری ثابت نہیں ہوتی۔
حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 9 ستمبر کو ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اس سے قبل امریکا نے ایران کے پانچ تیل بردار جہاز تباہ کیے تھے۔ اس دوران آبنائے سے گزرنے والی تجارتی سرگرمی بھی سست ہوئی ہے۔
اس کشیدگی کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے اور دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں جہاز رانی میں خلل عالمی منڈیوں تک پہنچنے والی تیل اور دیگر توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس کے اثرات قیمتوں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ طویل رکاوٹوں کے خدشے کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے۔
ایسے وقت میں ٹرمپ کی جانب سے نام تبدیل کرنے کی تجویز محض ایک عجیب سیاسی جملہ نہیں رہتی۔
جغرافیائی نام عموماً تاریخ، مقامی استعمال، معاہدوں اور بین الاقوامی قبولیت سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک امریکی صدر اپنے ملک میں کسی نام کو سیاسی طور پر استعمال کر سکتا ہے، لیکن اس سے کسی بین الاقوامی آبی راستے کا تسلیم شدہ نام خود بخود تبدیل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ اس سے پہلے بھی جغرافیائی ناموں کی تبدیلی کی تجاویز دے چکے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے خلیج میکسیکو کے لیے “گلف آف امریکا” کا نام امریکی سرکاری استعمال میں متعارف کرایا، جبکہ دیگر مقامات کے نام بدلنے کی تجاویز بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
لیکن ہرمز کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔
یہ صرف نقشے پر لکھے ہوئے نام کا سوال نہیں۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دو ممالک ایک انتہائی اہم آبی راستے تک رسائی اور کنٹرول کے لیے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں، فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور تجارتی جہاز ایک غیر یقینی ماحول میں سفر کر رہے ہیں۔
ٹرمپ شاید ہرمز سے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دنیا کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہرمز پر یہ کشمکش جاری رہی تو اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔





