پیرس: خاتون سڑک عبور کر رہی تھی۔
اس نے لمبا گلابی لباس اور حجاب پہن رکھا تھا۔
پھر سیاست نے اس تصویر کو بدل دیا۔
فرانس کے دائیں بازو کے نیشنل ریلی کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی ترجمان جولین اوڈول نے مصنوعی ذہانت سے تبدیل کی گئی اسی تصویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ نئی تصویر میں خاتون کا حجاب غائب تھا، بال نمایاں تھے اور لباس بھی تبدیل کر کے سفید ٹاپ اور پتلون دکھائی گئی تھی۔
تصویر کے ساتھ صرف دو الفاظ لکھے گئے:
"فرانسیسی آزادی۔"
تصویر سامنے آتے ہی تنازع کھڑا ہو گیا۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایک حقیقی خاتون کی ظاہری شکل کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس کی مرضی کے بغیر تبدیل کرکے اسے سیاسی پیغام کے لیے استعمال کرنا کس حد تک درست ہے۔
اصل تصویر چار ستمبر کو بائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ ایلی دیوارا نے "آزادی" کے عنوان کے ساتھ شیئر کی تھی۔ اوڈول نے اسی تصویر کا تبدیل شدہ ورژن پیش کیا، جس سے حجاب کے بارے میں جاری سیاسی بحث براہ راست ایک حقیقی خاتون کی ظاہری شکل سے جوڑ دی گئی۔
اس معاملے نے رضامندی کا ایک اور سوال بھی اٹھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خاتون کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اصل تصویر بھی ان کی رضامندی کے بغیر لی گئی تھی اور وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ بعد میں متعلقہ میڈیا پلیٹ فارمز سے تصویر ہٹا دی گئی، تاہم اس کی نقول آن لائن گردش کرتی رہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں عوامی مقامات پر حجاب کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔
نیشنل ریلی عوامی مقامات پر اسلامی حجاب پہننے پر پابندی کی حمایت کر رہی ہے۔ اس تجویز کے ردعمل میں حالیہ دنوں میں متعدد خواتین نے سوشل میڈیا پر حجاب پہن کر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں اور اسے اپنی آزادی اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر پیش کیا۔
اوڈول اس بحث میں پہلے بھی نمایاں رہے ہیں۔ 2019 میں انہوں نے ایک علاقائی کونسل کے اجلاس کے دوران اسکول کے بچوں کے ساتھ آنے والی ایک باحجاب خاتون سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت فرانسیسی قانون اسکول کے دوروں میں بچوں کے ساتھ جانے والے افراد پر مذہبی غیر جانب داری کی عمومی پابندی عائد نہیں کرتا تھا۔
تاہم اس بار معاملے میں ایک نیا عنصر شامل ہے۔
مصنوعی ذہانت۔
ایک ایسی تصویر جو پہلے صرف یہ دکھا رہی تھی کہ ایک خاتون نے کیا پہن رکھا ہے، اب چند لمحوں میں یہ دکھانے کے لیے تبدیل کی جا سکتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اسے کیا پہنے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تنازع صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود نہیں رہتا۔
یہ سوال مصنوعی ذہانت کے دور میں سیاست کے لیے بھی اہم ہوتا جا رہا ہے:
جب ٹیکنالوجی کسی حقیقی شخص کی ظاہری شکل کو بدل سکتی ہو تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ وہ شخص دنیا کے سامنے کیسا دکھائی دے؟
اوڈول کے لیے تبدیل شدہ تصویر “فرانسیسی آزادی” کا اظہار تھی۔
ان کے ناقدین کے لیے تضاد شاید یہی ہے۔
کیونکہ آزادی صرف یہ حق نہیں کہ ہم دوسروں کے بارے میں فیصلہ کریں کہ انہیں کیسا دکھائی دینا چاہیے۔
آزادی یہ حق بھی ہے کہ انسان اپنی تصویر کے بارے میں فیصلہ خود کرے۔





