اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے منگل کے روز اس بات کی توثیق کی ہے کہ مذہبی آزادی کے حق سمیت بنیادی حقوق مطلق نہیں ہیں بلکہ انہیں وسیع تر عوامی مفادات کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ احمدیہ برادری کی 23 مطبوعات پر سرکار کی جانب سے عائد پابندی کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے سنایا۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا، جس میں محمد عبدالقدوس اور دیگر کی جانب سے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 99 اے اور پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002ء کی دفعہ 19 کے تحت حکومت پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے خلاف دائر درخواستیں رد کر دی گئیں۔
درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ اور اس کے ملتان بینچ کے اکتوبر 2025 اور اپریل 2024 کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا تھا، جن میں مقررہ مدت کے اندر متبادل قانونی راستہ اختیار نہ کرنے کی بنیاد پر ان کی درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے سامنے دائر اپیل میں درخواست گزاروں نے محکمۂ داخلہ پنجاب کی جانب سے 25 جون 2014 کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99-اے کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر SO (IS-III) 6-15/2010 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے 'روحانی خزائن' کی 1 سے 23 جلدوں پر پابندی عائد کی گئی تھی اور ان تمام نسخوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ مطبوعات پر پابندی کا انتظامی اقدام آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت ملنے والی ان کی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس فاروق کے تحریر کردہ 13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ آرٹیکل 20 قانون، عوامی پالیسی اور اخلاقیات کے تابع مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ فیصلے میں آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے مشاہدہ کیا گیا کہ پابندی اور ضبطی کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے ضابطہ فوجداری اور متعلقہ آرڈیننس کے تحت کی گئی کارروائی کی ٹھوس بنیادوں اور وجوہات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری تھا۔
فیصلے میں نوٹ کیا گیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے مناسب قانونی راستے اختیار نہ کرنے کی وجہ سے متعلقہ مواد ریکارڈ پر نہ ہونے کے باعث عدالت کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتی۔
”اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ درخواست گزاروں کے کونسل کا یہ ادعا کہ انتظامیہ کا تنازعہ میں گھرا اقدام ان کی مذہبی آزادی کی شق کی خلاف ورزی ہے، بعد میں گھڑا ہوا نظر آتا ہے اور بالعموم بنیادی حقوق اور بالخصوص مذہبی آزادی کی شق کے موضوع پر لایعنی گفتگو سے زیادہ کچھ نہیں تھا،“ فیصلے میں مشاہدہ کیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ درخواست گزاروں نے عدالت کو مواد کے متن اور اس کے اثرات دکھانے کے بجائے عام بحث کی۔ پنجاب رولز آف بزنس 2011ء کے تحت اختیارات صوبائی حکومت کو سونپے گئے ہیں اور فیصلے کے مطابق محکمۂ داخلہ نے قانون کے عین مطابق کارروائی کی۔
مطبوعات کو بغیر سوچے سمجھے ضبط کرنے کے الزام سے متعلق فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ ایک علماء بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ان جلدوں میں موجود مواد مسلم کمیونٹی میں نفرت پھیلا سکتا ہے، اور اسے ضبط کرنے کی سفارش کی تھی۔
فیصلے میں مزید وضاحت کی گئی کہ موجودہ کیس میں، اختیار کی اصل واضح طور پر قانونی دستاویزات یعنی ضابطہ فوجداری اور آرڈیننس سے ملتی ہے۔ ان قانونی دفعات نے چیف سیکرٹری کو یہ اقدام کرنے کا صریح اختیار دیا تھا، جس سے یہ اقدام لامحدود انتظامی صوابدید کے بجائے قانونی دائرہ کار کے اندر آتا ہے۔





