اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیر کو وفاقی جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں حکام کو عمران خان کو پانچ نومبر کی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ پیشی بالمشافہ یا ویڈیو لنک کے ذریعے ہوسکتی ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے یہ ہدایت رامنا تھانے میں عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کی۔
عدالت نے عدم پیشی پر سابق وفاقی وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر اور مراد سعید، اور سابق سینیٹر شبلی فراز کو اشتہاری قرار دے دیا۔
اشتہاری قرار دینے سے مراد عدالت کی جانب سے مقررہ قانونی کارروائی کے بعد کسی ملزم کو پیشی سے گریز کرنے والا قرار دینا ہے۔ یہ اصل مقدمے میں جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتا۔
جج نے متعلقہ حکام کو چاروں رہنماؤں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت نے پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم اور پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی حسن خان نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔
ایسے وارنٹ حکام کو ملزم گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ ضمانت کی درخواست متعلقہ عدالتی عمل کے ذریعے زیر غور آتی ہے۔
مقدمہ اٹھارہ مارچ دو ہزار تئیس کے واقعات سے متعلق ہے، جب عمران خان توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے وفاقی جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تو پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ توشہ خانہ سرکاری عہدے داروں کو ملنے والے تحائف سے متعلق نظام ہے۔
اسلام آباد پولیس نے الزام لگایا تھا کہ پارٹی کارکنوں نے کمپلیکس پر حملہ کیا اور پولیس چوکی کو آگ لگائی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے پولیس پر عمران خان کی گاڑی پر شیلنگ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
پیر کی سماعت میں ملزمان کی پیشی اور متعلقہ عدالتی ہدایات پر کارروائی ہوئی۔ حملے کے الزامات پر کسی حتمی فیصلے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
عدالت نے مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کردی۔





