نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے اندر فیصلے سازی کے طریقہ کار پر جاری تنازع جمعرات کے روز اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا۔
اپوزیشن جماعت کاکرچ جنتا پارٹی (CJP) نے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے الگ ہونے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ استعفیٰ نہ ملنے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا، جسے "جنتر منتر 2.0" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت 'انڈین ایکسپریس' کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو الیکشن کمشنروں—سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی—نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اپنے تحریری اختلافات ریکارڈ کرائے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں کا موقف تھا کہ کئی اہم فیصلے ان کے علم میں لائے بغیر پورے کمیشن کے نام پر جاری کیے گئے، جنہیں انہوں نے غیر مجاز اور غیر قانونی قرار دیا۔
الزامات پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس کے تمام اقدامات قانون اور اندرونی قواعد کے مطابق تھے۔ انتخابی ادارے کا موقف تھا کہ 10 ماہ کے عرصے کے دوران منتخب اندرونی نوٹس کو اجاگر کرنا "تصویر کا صرف ایک رخ" پیش کرتا ہے اور یہ سرکاری منظوریوں، فیصلوں اور دیگر اقدامات کے وسیع تر ریکارڈ کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے خبردار کیا کہ اگر سی ای سی 48 گھنٹے کے اندر مستعفی نہ ہوئے تو ملک گیر تحریک چلائی جائے گی، جو رواں برس جون میں جنتر منتر پر کیے گئے مظاہروں کی طرز پر ہوگی۔ رواں سال کے اوائل میں سی جے پی کی قیادت میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں بھارت کے وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ ابھیجیت ڈپکے نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی کا تحفظ کریں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ایک مضبوط اور متفقہ موقف اپنائیں۔
دوسری جانب، آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنتا بسوا شرما نے چیف الیکشن کمشنر کا دفاع کرتے ہوئے الزامات کو اپوزیشن کی سیاسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک اجتماعی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے جہاں تمام فیصلے سی ای سی اور دونوں الیکشن کمشنروں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں، اور چیف الیکشن کمشنر پورے پینل سے مشاورت کے بغیر اکیلے فیصلے نہیں کر سکتے۔
ایک اور اہم پیش رفت میں، ترنمول کانگریس (TMC) کے رہنما ساکیت گوکھلے نے الیکشن کمیشن پر ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور الگورتھم کی فنی تفصیلات چھپانے کا الزام عائد کیا۔ رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کی درخواست کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 'ERONET' نظام کے تکنیکی تقاضوں اور لاجک ماڈیولز کی تفصیلات دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ تجارتی راز، ملکیتی حقوق اور دانشورانہ ملکیت کا معاملہ ہے۔ ساکیت گوکھلے نے ایک عوامی ادارے کی جانب سے استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر کی معلومات تجارتی بنیادوں پر روکنے کے فیصلے پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔





