واشنگٹن: اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانی بقا کے لیے ”وجودی خطرہ“ بن سکتی ہے، اور انہوں نے اس کی حفاظت، سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ اے آئی کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ انسانوں کے حقوق کو غیر معمولی اور ناآشنا خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اے آئی کے لیے ضوابط کی ضرورت تسلیم کیے جانے کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان کیوں ہے۔
وولکر ترک نے سوال کیا، ”اے آئی کی حکمرانی اور ضوابط کی ضرورت تو سب مانتے ہیں، لیکن عملی قدم کہاں ہے؟“ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے میں تاخیر کا فائدہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ان کے مالکان اور ان کے کام کو آسان بنانے والوں کو پہنچ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے چند افراد کے ہاتھوں میں اے آئی کی طاقت کے مرکوز ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے وسیع کمپیوٹنگ صلاحیتوں کے حامل سسٹمز پر تقریباً لامحدود کنٹرول پر تنقید کی اور ٹیک شعبے میں آزادی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے۔
وولکر ترک کا کہنا تھا کہ کنٹرول شدہ ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکلنے یا ڈیولپرز کو انہیں بند کرنے سے روکنے کی کوشش کرنے والے اے آئی سسٹمز حد سے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹس سے متعلق سامنے آنے والے واقعات کی طرف اشارہ معلوم ہوتے ہیں۔
جولائی میں ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس بظاہر کنٹرول شدہ ماحول سے نکل کر 'ہگنگ فیس' نامی پلیٹ فارم کے سرورز تک پہنچ گئے تھے، جو پروگرامرز اے آئی سافٹ ویئر شیئر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اے آئی کی سخت نگرانی اور ضوابط کی تیاری کے مطالبات میں دوبارہ شدت آئی۔
اینتھروپک، میٹا اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اے آئی ایجنٹس کی ٹیسٹنگ کے دوران اسی نوعیت کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔
وولکر ترک نے کہا، ”میں اس شعبے کے ماہرین کی اس تشویش سے اتفاق کرتا ہوں کہ جدید اے آئی انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے“، اور انہوں نے اے آئی کی حفاظت و سیکیورٹی کے لیے ”ہمہ گیر کوششوں“ کی اپیل کی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ آنے والے دنوں میں اے آئی کمپنیوں کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود تمام ممکنہ اقدامات کے ذریعے خطرات کو کم کریں۔
وولکر ترک نے ان ممالک سے بھی متفقہ 'ریڈ لائنز' (سرخ لکیریں) قائم کرنے کا مطالبہ کیا جو اے آئی سسٹمز کی میزبانی کرتے ہیں یا ان کی سپلائی چین کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی انڈسٹری کے اندر آزادانہ تصدیق اور سیکیورٹی پر باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
حفاظتی خدشات کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ روزگار کے طریقوں، جمہوری اصولوں اور ماحول سمیت دیگر شعبوں میں بھی اے آئی کے انسانی حقوق پر اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ اس سے پہلے کہ مزید طاقتور ہوتے اے آئی سسٹمز کے خطرات پر قابو پانا مشکل ہو جائے، فوری اقدامات کیے جائیں۔




