ویب ڈیسک: اس سال ایل نینو کے باعث ظاہر ہونے والے موسمی اثرات سے وسطی امریکہ کا ڈرائی کوریڈور شدید متاثر ہوا ہے، جس سے وہاں خوراک کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکئی کے 70 ہزار سے زائد کاشتکار خاندانوں کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
ڈرائی کوریڈور وسطی امریکہ کے ساحلِ بحر الکاہل پر واقع ایک مرطوب و خشک جنگلاتی خطہ ہے، جسے سینٹرل امریکن ڈرائی کوریڈور (سی اے ڈی سی) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خطہ جنوبی میکسیکو سے پاناما تک پھیلا ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے انتہائی حساس یہ علاقہ سیلاب، خشکسالی اور دیگر شدید موسمی حالات سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
سی اے ڈی سی میں 2 کروڑ سے زائد افراد آباد ہیں، جن کی اکثریت کا گزر بسر زراعت پر ہے۔ اسی وجہ سے موسمیاتی صدمات اور طویل خشکسالی کے باعث یہ علاقہ غذائی عدم تحفظ اور قلت کا شدید شکار رہتا ہے۔
آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق گواتیمالا، ہونڈوراس اور ایل سلواڈور کے وہ علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں چھوٹے کسانوں کا انحصار مکئی اور لوبیا پر ہے۔ امدادی تنظیم 'ایکشن اگینسٹ ہنگر' کے ساتھ 58 بلدیاتی علاقوں میں کیے گئے ایک مشترکہ جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس بحران سے تقریباً 91 ہزار دیہی خاندان متاثر ہوئے ہیں۔
جائزے کے مطابق مکئی کاشت کرنے والے 78.6 فیصد خاندانوں کی 75 سے 100 فیصد پیداوار ضائع ہو چکی ہے، جبکہ ذخیرہ رکھنے والے 64.2 فیصد خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کا ذخیرہ تین ہفتے یا اس سے کم عرصے کے لیے کافی ہے۔ علاوہ ازیں لوبیا کاشت کرنے والے تقریباً دو تہائی خاندانوں نے بھی اپنی 75 سے 100 فیصد پیداوار کے نقصان کی اطلاع دی ہے۔
89 فیصد کمیونٹیز میں فصلوں کے نقصان کی بنیادی وجہ خشکسالی بتائی گئی، جبکہ 23 ہزار سے زائد خاندانوں نے پانی کے بنیادی ذرائع تک رسائی میں کمی کی شکایت کی۔
واضح رہے کہ ایل نینو ایک موسمی تعامل ہے جو بحر الکاہل کی سطح کو گرم کر دیتا ہے اور جس کے باعث لاطینی امریکہ میں شدید بارشیں اور خشکسالی جنم لے سکتی ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں اقوام متحدہ اور عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا تھا کہ اس سال ایل نینو اوسط سے زیادہ درجہ حرارت کا باعث بنے گا، جس سے شدید موسمی حوادث رونما ہوں گے۔





