ٹمبلر رج: کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا نے اوپن اے آئی اور اس کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے خلاف کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے 10 فروری کو ٹمبلر رج میں ہونے والی اجتماعی فائرنگ سے پہلے تشویش ناک چیٹ جی پی ٹی گفتگو کے بارے میں پولیس کو خبردار نہیں کیا۔
حملہ آور نے پانچ طلبہ، ایک تعلیمی معاون اور اپنے خاندان کے دو افراد سمیت آٹھ افراد کو قتل کیا۔ بعد میں 18 سالہ حملہ آور نے خودکشی کرلی، جس سے مجموعی اموات کی تعداد نو ہوگئی۔
مقدمے کے مطابق اوپن اے آئی کے خودکار نظام نے جون 2025 میں اسلحے اور تشدد سے متعلق گفتگو کی نشاندہی کی تھی۔ کمپنی کی حفاظتی ٹیم کے بعض ارکان نے مبینہ طور پر خطرے کو فوری اور قابل اعتبار قرار دیتے ہوئے پولیس سے رابطے کی سفارش کی، لیکن اعلیٰ انتظامیہ نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
متعلقہ اکاؤنٹ بند کردیا گیا تھا، تاہم دعویٰ کیا گیا ہے کہ صارف نے نیا اکاؤنٹ بنا کر چیٹ جی پی ٹی کا استعمال جاری رکھا۔
اوپن اے آئی پہلے تسلیم کرچکی ہے کہ اس کے نظام نے گفتگو کی نشاندہی کی تھی، لیکن کمپنی کے مطابق معاملہ پولیس کو اطلاع دینے کے لیے مقررہ داخلی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ سیم آلٹمین نے بعد میں پولیس سے رابطہ نہ کرنے پر ٹمبلر رج کی آبادی سے معذرت کی۔
کمپنی کے ترجمان نے واقعے کو ناقابل بیان سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوپن اے آئی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون اور حفاظتی نظام بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
برٹش کولمبیا نے ذہنی صحت کی سہولیات، متاثرہ آبادی کی بحالی اور نئے اسکول کی تعمیر پر ہونے والے اخراجات کے لیے ہرجانہ طلب کیا ہے۔ صوبہ چاہتا ہے کہ عدالت کمپنی کو ممکنہ تشدد ظاہر کرنے والی گفتگو سے نمٹنے کا طریقہ تبدیل کرنے کا حکم بھی دے۔
مقدمے کا بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ آیا صارف کے کیے گئے تشدد پر مصنوعی ذہانت کی کمپنی کو ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے اور کیا خطرے کی اطلاع دینا اس کی قانونی ذمہ داری تھی۔ عدالت نے ابھی ان الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔





