برازیلیا: چار دہائیوں سے برازیلی سائنسدان ڈاکٹر ماریانجیلا ہنگریا ایک ایسے خیال پر کام کر رہی ہیں جس نے جدید زراعت کے ایک اہم حصے کو بدل دیا ہے۔ ان کی تحقیق کا مقصد ایسے مفید بیکٹیریا کا استعمال ہے جو پودوں کو ان کی ضروری غذائیت حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہنگریا مائیکرو بایولوجسٹ اور برازیل کے زرعی تحقیقی ادارے ایمبراپا کی سینئر محقق ہیں۔ وہ حیاتیاتی نائٹروجن فکسیشن کے شعبے میں اہم نام سمجھی جاتی ہیں۔ اس عمل میں بعض بیکٹیریا فضا میں موجود نائٹروجن کو ایسی شکل میں تبدیل کرتے ہیں جسے پودے استعمال کر سکتے ہیں، جس سے مصنوعی نائٹروجن کھاد پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کی تحقیق نے ایسے مائیکروبیل طریقوں کو عملی زرعی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دی جنہیں بیجوں یا مٹی پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہنگریا اور ان کی ٹیموں کی تیار کردہ 30 سے زیادہ ٹیکنالوجیز سویا بین، پھلیاں، مکئی، گندم، چاول اور چراگاہوں سمیت مختلف فصلوں میں استعمال ہوئی ہیں۔
ان ٹیکنالوجیز کا دائرہ بھی خاصا وسیع ہے۔ اندازوں کے مطابق برازیل میں 40 ملین ہیکٹر سے زیادہ زرعی رقبے پر ان کا استعمال ہو رہا ہے، جبکہ حیاتیاتی مائیکروبیل مصنوعات ملک کی سویا بین کی فصل کے بڑے حصے میں استعمال کی جاتی ہیں۔
جاپان کے زرعی تحقیقی ادارے کے مطابق ہنگریا کی تحقیق سے منسلک ٹیکنالوجیز برازیلی کسانوں کے لیے سالانہ تقریباً 25 ارب ڈالر کی لاگت میں بچت کا باعث بن رہی ہیں جبکہ تقریباً 230 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج سے بھی بچاؤ ہوا ہے۔
ہنگریا کا سائنسی ریکارڈ بھی وسیع ہے۔ وہ 500 سے زیادہ تحقیقی مضامین، ابواب اور دیگر علمی کام شائع کر چکی ہیں اور انہوں نے کئی دہائیاں لیبارٹری تحقیق کو کسانوں کے لیے قابل استعمال بنانے میں صرف کی ہیں۔
2025 میں انہیں حیاتیاتی نائٹروجن فکسیشن اور پائیدار زرعی پیداوار میں کام پر ورلڈ فوڈ پرائز دیا گیا۔ 500000 ڈالر کا یہ اعزاز ایسی تحقیق کے اعتراف میں دیا گیا جس نے کسانوں کو کم کیمیائی ذرائع کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں مدد دی۔
ہنگریا کی کہانی یہ دکھاتی ہے کہ زراعت کا مستقبل ہمیشہ زیادہ کیمیکل یا بڑی مشینوں میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات زمین میں موجود انتہائی چھوٹے جاندار بھی کسانوں کے اخراجات کم کرنے، فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے اور ماحول پر دباؤ گھٹانے میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔





