ناگویا: جاپان کے شہر ناگویا میں منگل کو ہونے والی غیر معمولی بارش نے شہر کو پانی میں ڈبو دیا اور 136 سال پرانا بارش کا ریکارڈ توڑ دیا۔
ناگویا میں ایک گھنٹے کے دوران 104.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جو 1890 میں موسمی مشاہدات شروع ہونے کے بعد ایک گھنٹے میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔ یہ مقدار شہر کے عام نکاسی آب کے نظام کی تقریباً 50 ملی میٹر فی گھنٹہ کی گنجائش سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
شدید بارش کے باعث میٹرو سروسز معطل ہوئیں، زیر زمین تجارتی مراکز میں پانی داخل ہوگیا اور ناگویا اور گیفو ہاشیما کے درمیان ٹوکائیڈو شنکانسن بلٹ ٹرین سروس بھی روک دی گئی۔
بارش نے دریائے شونائی کے اطراف سیلاب کا خطرہ بڑھا دیا، جس کے بعد جاپانی حکام نے بلند ترین سطح کی سیلابی وارننگ جاری کی۔ عروج کے وقت ایچی، گیفو اور میئی صوبوں میں تقریباً 26 لاکھ افراد کے لیے انخلا کی ہدایات یا انتباہات جاری کیے گئے، جبکہ کم از کم 41 افراد زخمی ہوئے۔
ناگویا کا سابقہ ایک گھنٹے کی بارش کا ریکارڈ 97 ملی میٹر تھا، جو 2000 میں آنے والی تباہ کن ٹوکائی شدید بارش کے دوران قائم ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد شہر میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے، جن میں دریائی پشتوں کی مضبوطی اور پانی نکالنے کی پمپنگ صلاحیت میں اضافہ شامل تھا۔
تاہم اس بار مسئلہ دریا کے بجائے بارش کی شدت تھی۔ شہر کے کئی نکاسی آب کے نظام ایسی بارش کے لیے بنائے گئے ہیں جو تقریباً 50 ملی میٹر فی گھنٹہ تک ہو، جبکہ منگل کو اس سے دو گنا سے زیادہ بارش ایک ہی گھنٹے میں ہوگئی۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق یہ بارش ایک لکیری بارشی پٹی کے باعث ہوئی، جس میں بادلوں کے طوفانی سلسلے ایک ہی علاقے میں بار بار بنتے ہیں اور انتہائی کم وقت میں بڑی مقدار میں بارش برساتے ہیں۔
یہ واقعہ ایشین گیمز کے آغاز سے صرف چند روز پہلے پیش آیا ہے۔ مقابلوں کے متعدد مقامات پر پانی رسنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ عارضی رہائش گاہ میں موجود تقریباً 400 کھلاڑیوں، کوچز اور حکام کو احتیاطاً بلند مقام پر منتقل کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق عمارتوں کو کوئی ساختی نقصان نہیں پہنچا اور کھیل شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
ناگویا اب بحالی اور گیمز کی تیاری میں مصروف ہے۔ مگر اس ریکارڈ نے ایک بڑا سوال ضرور سامنے رکھ دیا ہے: اگر موسم کی شدت ان حدود سے آگے نکل رہی ہے جن کے لیے شہر بنائے گئے تھے، تو مستقبل کے شہر کس موسم کے لیے تیار کیے جائیں گے؟





