ڈھاکا: بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر حسن محمود نے پیر کو کہا کہ ٹیم کی بہتر کارکردگی اور مضبوط ہوتے ہوئے پیس اٹیک نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچنے کی امید بڑھا دی ہے۔
اے ایف پی کو انٹرویو میں چھبیس سالہ بولر نے کہا کہ اگست میں ڈارون میں آسٹریلیا کے خلاف نو وکٹوں کی فتح نے کھلاڑیوں کا اعتماد مضبوط کیا۔
حسن نے کہا، ’’یقیناً حالات ہمارے حق میں بدل رہے ہیں۔ ہم ٹیسٹ کرکٹ میں غالب نہیں رہے، اب اس کا وقت ہے۔‘‘
بنگلہ دیش گزشتہ دو برس میں تیرہ میں سے چھ ٹیسٹ جیت چکا ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس مقابلے میں مخصوص ٹیسٹ سیریز کے نتائج کی بنیاد پر دو ٹیمیں فائنل کے لیے منتخب ہوتی ہیں۔
موجودہ مرحلے میں بنگلہ دیش کے چھ ٹیسٹ باقی ہیں۔ ٹیم اپنے میدانوں پر ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کھیلے گی، جبکہ جنوبی افریقہ کا دورہ بھی کرے گی۔
حسن نے کہا، ’’اگر ہم اپنے میدانوں پر چار میچ جیت جائیں تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کیوں نہ کھیلیں؟ اب بنگلہ دیش کا یہی خواب ہے۔‘‘
ڈارون میں حسن نے پچپن رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی تھیں اور تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم آسٹریلیا نے میکے میں دوسرا ٹیسٹ ایک اننگز اور اکیاون رنز سے جیت کر دو میچوں کی سیریز برابر کر دی۔
اس سال انگلش کاؤنٹی کینٹ کی نمائندگی کرنے والے حسن کے مطابق بنگلہ دیش کے نئے فاسٹ بولرز ٹیم کے بارے میں پرانے تصورات بدل رہے ہیں۔
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر گلین میک گرا کے نام پر ’’منی میک گرا‘‘ کہلانے والے حسن نے بتایا کہ آسٹریلیا کے خلاف ان کی حکمت عملی مسلسل دباؤ ڈالنا اور بلے بازوں کو آسانی سے رنز نہ بنانے دینا تھی۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ بولرز فٹ رہیں اور بلے باز فارم برقرار رکھیں تو ٹیم مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔ فائنل میں جگہ ابھی یقینی نہیں اور باقی میچوں کے نتائج اس کی امیدوں کے لیے اہم ہوں گے۔





