سان فرانسسکو: دنیا کے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیاری پر کام کرنے والے ایک محقق نے اینتھروپک سے استعفیٰ دے کر خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی ترقی شاید اس رفتار سے ہو رہی ہے جس کے ساتھ اسے محفوظ رکھنا ممکن نہیں۔
ستائیس سالہ جیکب کاکسن نے اس ہفتے اینتھروپک سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ وہ گزشتہ تقریباً تین برس کے دوران اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں میں اے آئی ماڈلز کی تربیت سے متعلق تحقیق کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں انہوں نے دونوں کمپنیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خود کو بہتر بنانے والے انتہائی طاقتور اے آئی نظام تیار کرنے کی دوڑ میں حفاظتی خدشات کو نظر انداز کر رہی ہیں۔
کاکسن نے خبردار کیا کہ اے آئی تیار کرنے والے بعض افراد خود سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس دوڑ کو انسانی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔
ان کے خدشات کو اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس کے سربراہ ایون ہیوبنگر کی جانب سے بھی تقویت ملی۔ ہیوبنگر نے کہا کہ ان کے ذاتی اندازے کے مطابق اگلی دہائی میں اے آئی کے تمام انسانوں کی ہلاکت کا امکان 10 فی صد سے زیادہ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اینتھروپک کے پاس ابھی ایسی انتہائی طاقتور اے آئی کو انسانی مقاصد سے ہم آہنگ رکھنے کا مکمل حل موجود نہیں۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں کے اے آئی نظاموں سے متعلق ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں آزمائشی ماحول سے باہر کمپیوٹر نظاموں تک غیر مجاز رسائی حاصل ہوئی۔ ان واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ زیادہ خود مختار اے آئی نظاموں کو کس حد تک قابل اعتماد طریقے سے محدود رکھا جا سکتا ہے۔
کاکسن کا استعفیٰ اے آئی کی رفتار اور اس کے حفاظتی انتظامات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر جاری عالمی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ متعدد محققین پہلے بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اے آئی کے ممکنہ خطرات پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
اے آئی کے مستقبل کے بارے میں تباہ کن پیش گوئیاں ابھی حتمی حقیقت نہیں ہیں۔ لیکن اگر ٹیکنالوجی بنانے والے خود اس کی رفتار سے پریشان ہیں تو دنیا کے سامنے ایک بنیادی سوال ضرور موجود ہے: اے آئی کی دوڑ کتنی تیز ہونی چاہیے، اور انسانی تحفظ کو اس دوڑ میں کہاں رکنا چاہیے؟





