ایرانی میڈیا کی تصدیق کے مطابق، ایران پر بڑھتے ہوئے تازہ عالمی دباؤ کے ماحول میں علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی پیر کے روز تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور واشنگٹن نے محض دو ہفتے قبل ایران کے جنوبی اضلاع پر عسکری حملوں کا ایک سلسلہ مکمل کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن تہران کے خلاف تاریخ کا سخت ترین پابندیوں کا پیکیج متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عاصم منیر "اعلیٰ ایرانی حکام" سے ملاقاتیں کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ آئی آر جی سی کے نئے سربراہ میجر جنرل احمد وحیدی، چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے بھی بات چیت کریں گے۔ تاہم، اس دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان یا وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
موجودہ بحران کی شروعات فروری کے آخر میں اس وقت ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر شدید حملے کیے تھے۔ اس کے بعد تقریباً 40 دن تک جاری رہنے والی فوجی جھڑپوں کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی عمل میں آئی۔ تب سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اس تنازع کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔ ایران نے اس اہم توانائی گزرگاہ پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور اس کا موقف ہے کہ اسے صرف اسی صورت میں مکمل طور پر کھولا جائے گا جب امریکہ بحری ناکہ بندی، تیل کی پابندیاں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے ختم کرے گا۔
پاکستان اس سے قبل بھی ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے جون میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط کرانے میں مدد کر چکا ہے، تاہم اس کے بعد سے وہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور ایرانی حکام کے مطابق عاصم منیر کے اس دورے کا مقصد رابطے بحال رکھنا اور مشرق وسطیٰ میں "پرامن، پائیدار اور جامع" حل تلاش کرنا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے عزم پر قائم ہے۔
پاکستان کے لیے صورتحال انتہائی نازک ہے۔ آبنائے ہرمز کی آمدورفت میں کسی بھی طویل تعطل کے علاقائی توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
کیا عاصم منیر اور محسن نقوی اس عمل کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اسلام آباد ایک ایسے تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے پہلے ہی خطے کی جغرافیائی صف بندیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔





