معیشت
وزیر اعظم نے اسلام آباد میں گوگل کے پہلے دفتر کا افتتاح کر دیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں گوگل کے عالمی سربراہ برائے پبلک پالیسی اور امریکی قائم مقام سفیر کے ہمراہ پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا افتتاح کیا۔ یہ اقدام پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی اور 2030ء تک آئی ٹی برآمدات 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز اسلام آباد میں پاکستان کے اندر گوگل کے پہلے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ تقریب میں گوگل کے عالمی سربراہ برائے پبلک پالیسی ڈیوڈ ویلر اور پاکستان میں امریکی قائم مقام سفیر ناٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اسے پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور ایپس، گیمز، سافٹ ویئر اور میڈیا جیسے شعبوں کی آئی ٹی برآمدات کو 2030ء تک 30 ارب ڈالر تک لے جانے کی حکومتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔
افتتاحی تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ڈیوڈ ویلر دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس ہدف کے حصول کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکنالوجی ادارے کا پاکستان میں مقامی دفتر قائم کرنا ایک "خاص لمحہ" ہے۔
بعد ازاں ڈیوڈ ویلر اور گوگل کے وفد نے وزارتِ داخلہ کے حکام سے ملاقات کی، جس میں سائبر سیکیورٹی اور انتہا پسندی کے خاتمے و آن لائن بنیاد پرستی کی روک تھام سے متعلق حکومتی خدشات کے پیشِ نظر سوشل میڈیا کی خصوصی نگرانی کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ویلر سے ملاقات کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ "پاکستان کے حالات کے پیشِ نظر سوشل میڈیا کی پیشگی نگرانی ناگزیر ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان ایک محفوظ اور پرامن ڈیجیٹل ماحول کے لیے گوگل کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو مزید بڑھانا چاہتا ہے،" جس پر ویلر نے بھی اتفاق کیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گوگل اور اس کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو مقبوضہ فلسطین میں نسل کشی کے دوران اسرائیلی فوج سے تعلقات اور شہریوں و شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے آلات کے ممکنہ استعمال پر عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ دوسری جانب خلیج فارس میں جاری بے یقینی کے دوران مصالحتی کوششوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مقام میں اضافہ ہوا ہے اور اسے خلیجی ریاستوں سے باہر کاروبار پھیلانے کی خواہش مند کمپنیوں کے لیے متبادل سرمایہ کاری مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






