سیاست
عمران خان کا نجی اسپتال میں علاج آئینی طور پر ممکن نہیں، سپریم کورٹ میں استدعا
حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو نجی اسپتال میں طبی علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔

وفاقی حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت کے منگل کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں طبی علاج کی اجازت دی گئی تھی۔ وفاقی دارالحکومت کے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے یہ درخواست دائر کی، جس میں عدالت عالیہ کے حکم کو "امتیازی" قرار دیا گیا ہے۔
حکومت عمران خان کو فی الوقت قید کی جگہ یعنی اڈیالہ جیل سے باہر نہ جانے دینے کے موقف پر قائم ہے۔ درخواست میں پاکستان پرزن رولز 1978ء کے قاعدہ 197 کا حوالہ دیا گیا ہے جو کسی قیدی کی اسپتال منتقلی کے طریقہ کار کا احاطہ کرتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ہنگامی صورت حال کے علاوہ طبی علاج کی ذمہ داری ایک ایسے عمل کا تقاضا کرتی ہے جس میں انسپکٹر جنرل پولیس کا شامل ہونا ضروری ہے۔
حکومت نے یہ دلیل بھی دی کہ آئین کا آرٹیکل 25 مساوی سلوک کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے اور "آئین امتیاز اور طرف داری سے نفرت کرتا ہے۔" حکومت کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے عمران خان کو خصوصی علاج کی اجازت دی تو اس سے دیگر قیدیوں کی جانب سے بھی اسی طرح کے مطالبات کا سیلاب آ جائے گا، جس سے "پورے فوجداری نظامِ عدل میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔"
حکومت نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10-اے منصفانہ سماعت اور قانون کے تقاضوں کے مطابق عمل (ڈیو پروسیس) کے حق کی ضمانت دیتا ہے، جسے اس کیس میں برقرار نہیں رکھا جا سکا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ "قانون کے تقاضوں میں دونوں فریقین کو سماعت کا مناسب نوٹس دینا شامل ہے۔ موجودہ کیس میں فوجداری اپیل پہلی بار سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی، اور اس لیے بنچ کی جانب سے نہ تو سماعت کا نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی عدالت نے اپیل کی اجازت دی ہے۔"
یہ درخواست سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر 4، رول 28 کے تحت اسی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی جائے گی جس نے فیصلہ سنایا تھا۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس فیصلے پر تبصرہ کیا، طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے "ہمدردی کا کارڈ" کھیلا ہے۔ دوسری جانب عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت عمران خان کی صحت کے معاملے کو "سیاست کی نذر" نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم دونوں رہنماؤں میں سے کسی نے بھی ان قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی سے ان کی دیگر قانونی مشکلات میں کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔






