سیاست

پی ٹی آئی کا اپنے قائد کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم

سپریم کورٹ نے عمران خان کی قانونی ٹیم کے اس دیرینہ مطالبے پر فیصلہ سنا دیا ہے جس میں ان کی خصوصی طبی دیکھ بھال کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

پی ٹی آئی کا اپنے قائد کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم
پی ٹی آئی کا اپنے قائد کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدمتصویر: QOM

سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کے روز سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکلاء کی مہینوں سے جاری درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نجی ہسپتال میں طبی معائنے اور علاج کی اجازت دے دی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کی طبیعت ناساز ہے۔ 


عدالت نے یہ ریلیف انسانی بنیادوں پر دیا ہے۔ اس سے قبل اڈیالہ جیل — جہاں عمران خان قید ہیں — کے سپرنٹنڈنٹ کی عبوری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو دستیاب سہولیات سے بہتر طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہو سکتی ہے، جبکہ جیل کے میڈیکل ریویو بورڈ کے مطابق وہ گھبراہٹ اور ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو سکتے ہیں۔


رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کے لیے اپنے اہل خانہ سے زیادہ کثرت سے ملاقاتیں مفید رہیں گی، جنہیں جیل حکام کے مطابق باقاعدگی سے ملنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔  


جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا اور سابق وزیر اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کی سربراہی میں صحت کی نگرانی کے لیے چار رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔ امکان ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی کسی حیثیت میں اس بورڈ کا حصہ ہوں گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ نجی علاج کے تمام اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرے گا اور تمام رپورٹس صیغہ راز میں رہیں گی۔ 


پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا، ”ہم عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ طبی رپورٹ مکمل طور پر صیغہ راز میں رہے گی۔“ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ ہسپتال کے باہر کوئی سیاسی سرگرمی، میڈیا گفتگو یا پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔


دوسری جانب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم ایک عام قیدی ہیں اور ماضی کے عہدوں سے قطع نظر کسی خاص رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ 

اگلا کیا پڑھیں

سب دیکھیں