وینس: آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی کھلم کھلا حمایت کی پاداش میں انہیں اب بھی فلمی کرداروں سے محروم کیا جا رہا ہے اور کچھ ایجنسیاں پروڈیوسرز کو انہیں کاسٹ کرنے سے روک رہی ہیں۔
اتوار کو وینس فلم فیسٹیول میں اپنی نئی فلم 'دی ایکو چیمبر' کی پروموشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ اگرچہ عوام کے رویے میں تبدیلی آئی ہے، لیکن امریکی فلم انڈسٹری کے کچھ حلقوں میں اب بھی مخالفت پائی جاتی ہے۔
فیسٹیول کی رپورٹس کے مطابق سارینڈن نے کہا: ”حال ہی میں مجھ سے فلمیں واپس لی گئی ہیں کیونکہ کچھ ایجنسیاں لوگوں کو ہدایت کر رہی ہیں کہ مجھے نہ لیا جائے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکی اسٹوڈیو سسٹم کے مقابلے میں بین الاقوامی سطح پر خود کو زیادہ خوش آئند محسوس کرتی ہیں۔
سارینڈن کا کہنا تھا کہ فلسطین، اسرائیل اور امریکی پالیسی سے متعلق 'بیانیہ' نمایاں طور پر بدلا ہے اور امریکا و اسرائیل کے سیاسی اور مالی تعلقات سے متعلق عوام میں شعور بڑھا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر علانیہ تنقید کرنے والوں کے لیے بڑے اسٹوڈیوز میں کام کرنا اب بھی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا: ”اگر معاملہ کسی بڑے اسٹوڈیو کا ہو، تو مجھے لگتا ہے کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ دیگر لوگوں کو بھی کہہ دیا گیا ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔“
سارینڈن کو اس سے قبل بھی اپنے سیاسی بیانات کے پیشہ ورانہ نتائج بھگتنا پڑے ہیں۔ 2023 میں فلسطین کے حق میں ایک ریلی کے دوران دیے گئے ان کے ایک بیان کے بعد یونائیٹڈ ٹیلنٹ ایجنسی نے ان کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔
بعد میں انہوں نے اس بیان پر معافی مانگ لی تھی کہ امریکی یہودی اس صورتحال کا ”ذائقہ چکھ رہے ہیں“ جو مسلم برادری امریکا میں برداشت کرتی ہے، اور اپنے الفاظ کو ایک ”ہولناک غلطی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ غلط تاثر ملتا تھا جیسے یہودیوں نے تاریخ میں کبھی مظالم کا سامنا نہ کیا ہو۔
وینس میں سارینڈن نے ان آزاد فلم سازوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے ساتھ کام جاری رکھا۔ انہوں نے انڈسٹری کی جانب سے ملنے والے مبینہ انتباہات کے باوجود اپنی فلم 'دی ایکو چیمبر' میں کاسٹ کرنے پر ڈائریکٹر اینڈریا پالاورو کا بالخصوص شکریہ ادا کیا۔
اطالوی فلم، جس کا اتوار کو فیسٹیول میں پریمیئر ہوا، گولڈن لائن ایوارڈ کی دوڑ میں شامل 21 فلموں میں سے ایک ہے، جبکہ اس ایوارڈ کا اعلان 12 ستمبر کو کیا جائے گا۔
'ڈیڈ مین واکنگ'، 'دی راکی ہارر پکچر شو'، 'بل ڈرہم' اور 'تھیلما اینڈ لوئیس' جیسی فلموں سے شہرت پانے والی سارینڈن نے کہا کہ انہوں نے روایتی ہالی ووڈ سسٹم سے ہٹ کر ایک معاون ماحول ڈھونڈ لیا ہے۔
ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کا تنازع امسال وینس فلم فیسٹیول پر بھی حاوی ہے، جہاں متحرک کارکنوں نے فلسطینی فلم سازوں کی پذیرائی اور فلسطینی مسائل پر زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔




