غزہ میں اسرائیل کے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیے جانے والے ملٹری ٹارگٹنگ کا پردہ چاک کرنے والی ایک نئی متنازع ڈاکیومنٹری، دنیا بھر کے ۵۶ ممالک کے سینما گھروں میں نمائش کے بعد ’دی گارڈین‘ کی ویب سائٹ پر عالمی ناظرین کے لیے بالکل مفت دستیاب کر دی جائے گی۔ میڈیا آرگنائزیشن کی آزاد صحافت سے وابستگی کے تحت، یہ تحقیقاتی فیچر فلم ’نازا‘ (NAZA) نومبر کے آخر سے بغیر کسی معاوضے کے آن لائن سٹریمنگ کے لیے پیش کی جائے گی۔
اسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم ساز یول ابراہم اور راحیل سزور (نو ادر لینڈ) کی مشترکہ ہدایت کاری اور جوزف گلیزر کی ایگزیکٹو پروڈکشن میں بننے والی اس ڈاکیومنٹری کا نام ’نازا‘، عبرانی فوج کے مخفف "ضمنی نقصان" (nezek agavi) سے لیا گیا ہے۔ تل ابیب میں انتہائی راز داری کے ساتھ فلمائے گئے اس پروجیکٹ میں ’دی گارڈین‘، ’لوکل کال‘ اور ’972+ میگزین‘ کی تین سالہ تحقیقاتی رپورٹس کو مزید وسعت دی گئی ہے۔
فلم کی بنیادی کہانی ۲۴ گمنام اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس وسل بلورز کے آنکھوں دیکھے بیانات پر مبنی ہے، جو اے آئی کے ذریعہ اہداف کا تعین کرنے والے نظام کے عملی طریقہ کار کی تفصیلاً وضاحت کرتے ہیں۔ یہ اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ کس طرح خودکار نگرانی کے پلیٹ فارمز "لیوینڈر" جیسے سسٹمز کے ذریعے سیلولر نیٹ ورکس اور سیٹلائٹ ڈیٹا کو پروسیس کر کے دسیوں ہزار اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں، اور غزہ میں فضائی حملوں کا حکم دینے سے پہلے پہلے سے طے شدہ شہری ہلاکتوں کی حد کا حساب لگاتے ہیں۔
اس ڈاکیومنٹری کا پریمیئر ۸۳ ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا جہاں اسے تاریخی ۲۵ منٹ کے کھڑے ہو کر دیے گئے احترام (اسٹینڈنگ اوویشن) کے بعد اسپیشل جیوری پرائز سے نوازا گیا۔ فلمی میلوں میں زبردست کامیابی کے باوجود، فلم کو اسرائیل کے اندر شدید سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں وزیر ثقافت مکی زوہر نے خفیہ معلومات افشا ہونے پر 'شن بیٹ' سیکورٹی تحقیقات کی درخواست کی ہے، اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو بدنام کرنے کے الزام میں شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے۔
عوامی ہراسانی اور سلامتی کو درپیش خطرات کے جواب میں، ڈائریکٹر یول ابراہم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غیر فعال کر دیے ہیں جبکہ دونوں فلم سازوں نے اسرائیل واپسی ملتوی کر دی ہے، دوسری جانب 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' نے ریاستی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ہدایت کاروں نے ’نازا‘ کو اسرائیل کے آزاد سینما گھروں میں بلا معاوضہ پیش کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ ’دی گارڈین‘ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عوام تک سٹریمنگ کی رسائی یقینی بنانے کے لیے مقامي انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔





