اسلام آباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کے روز کہا ہے کہ مکہ ڈیفنس الائنس — جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مشترکہ سیکیورٹی کا انتظام ہے کے کسی بھی رکن ملک پر بلااشتعال حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ فوجی حملوں کے بعد باہمی دفاعی نظام فعال ہونے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر علاقائی جارحیت جاری رہی تو معاہدے کی ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع کا یہ بیان یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور اہم معاشی انفراسٹرکچر پر میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلہ وار واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 73 عام شہری زخمی ہوئے اور خطے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا۔ اسلام آباد نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور مملکت کی علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ بلااشتعال جارحیت یا یمنی تنازع کا سعودی عرب کی سرزمین تک پھیلنا اس معاہدے کو فوری طور پر متحرک کر دے گا۔ یہ اعلان بڑھتی ہوئی علاقائی بے یقینی کے درمیان اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان گہرے ہوتے سہ ملکی سیکیورٹی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس سے سعودی عرب کے خلاف سرحد پار حملوں کی روک تھام کا واضح پیغام ملتا ہے۔





