اسلام آباد: چند الفاظ لکھیں اور چند سیکنڈ میں ایک تصویر سامنے آ جاتی ہے۔
کبھی ایک پورٹریٹ، کبھی کوئی خیالی منظر اور کبھی صرف اس لیے ایک تصویر کہ انٹرنیٹ پر نیا رجحان چل رہا ہے۔
صارف کے لیے یہ عمل تقریباً بے وزن محسوس ہوتا ہے۔
مگر اسکرین کے پیچھے مشینیں کام کر رہی ہوتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے ان ڈیٹا سینٹرز کی طلب میں اضافہ کیا ہے جہاں ان نظاموں کو چلانے کے لیے بڑی مقدار میں کمپیوٹنگ کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت میں 17 فی صد اضافہ ہوا، جبکہ اے آئی پر مرکوز ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب 50 فی صد بڑھی۔ ادارے کے مطابق مجموعی ڈیٹا سینٹر بجلی کی کھپت 2025 کے تقریباً 485 ٹیرا واٹ آور سے بڑھ کر 2030 تک تقریباً 950 ٹیرا واٹ آور ہو سکتی ہے۔
اے آئی سے تصویر بنانا اس مجموعی طلب کا صرف ایک حصہ ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف امیج جنریشن ماڈلز کی توانائی کی ضرورت میں نمایاں فرق ہو سکتا ہے۔
2025 کی ایک تحقیق میں 17 امیج جنریشن ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کو مختلف ماڈلز کے درمیان توانائی کے استعمال میں 46 گنا تک فرق ملا۔ تصویر کی ریزولوشن بڑھانے سے بھی بعض نظاموں میں توانائی کی ضرورت نمایاں طور پر بڑھ گئی۔
یہی وجہ ہے کہ سوال صرف یہ نہیں کہ ایک تصویر بنانے میں کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے۔
اصل سوال پیمانے کا ہے۔
ایک تصویر بنائیں۔ پسند نہ آئے تو دوسری بنائیں۔ پس منظر بدلیں۔ روشنی تبدیل کریں۔ پھر ایک اور کوشش کریں۔
ہر درخواست الگ سے معمولی محسوس ہو سکتی ہے۔
لیکن جب یہی عمل لاکھوں صارفین بار بار کرتے ہیں تو معمولی درخواستیں ایک بڑے کمپیوٹنگ نظام کی طلب میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اس کے ساتھ مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں۔ ڈیٹا سینٹرز میں مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کولنگ سسٹمز درکار ہوتے ہیں، جبکہ اس ٹیکنالوجی کے وسیع تر انفراسٹرکچر میں سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ہارڈ ویئر کی تیاری بھی شامل ہے۔
پھر بھی صارف کو ان میں سے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
بجلی اسکرین پر نظر نہیں آتی۔ سرور کہیں اور ہوتے ہیں۔ کولنگ سسٹم کہیں اور۔ ہارڈ ویئر بنانے والی فیکٹریاں بھی کہیں اور۔
صارف کے سامنے صرف تصویر آتی ہے۔
یہی اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ایک اہم تضاد ہے۔
ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر ہو رہی ہے، لیکن اس کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اے آئی بعض شعبوں میں توانائی کے استعمال اور اخراج کو کم کرنے میں مدد بھی دے سکتی ہے، اس لیے اس کا ماحولیاتی اثر صرف منفی زاویے سے دیکھنا مکمل تصویر نہیں ہوگا۔
اصل سوال شاید یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی نے ڈیجیٹل تخلیق کو تقریباً فوری بنا دیا ہے، کیا اس نے اس کے پیچھے موجود حقیقی وسائل کو بھی ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا ہے؟
اگلی اے آئی تصویر شاید چند سیکنڈ میں بن جائے۔
مگر اسے ممکن بنانے والا نظام اتنا فوری نہیں۔





